لیاؤننگ(شِنہوا)چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں واقع خوبصورت "کوئی-گوئی لائن” کے ساتھ سفر کرتے ہوئے پاکستان سے تعلق رکھنے والے احمد نے چینی روایتی ثقافت کو دریافت کرنے کے لئے اشتیاق سے لنگ ڈونگ گاؤں میں قدم رکھا۔ یہ "خوبصورت دیہی سڑک” نہ صرف اردگرد کے پہاڑوں اور دریا کو آپس میں ملاتی ہے بلکہ چین کی روایتی ثقافت کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے اور احمد جیسے مہمانوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے جو اقلیتی ثقافتوں کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔
لنگ ڈونگ گاؤں کے ثقافتی میوزیم میں داخل ہوتے ہی وہ ایک گہری ثقافتی فضا میں محو ہوگیا۔ میوزیم میں مقامی لوگوں کی تاریخ، آبادی، کھانوں اور لباس کی تفصیلات موجود تھیں۔ رہنما کی وضاحتوں کے ساتھ احمد نے ایک ناقابل فراموش ثقافتی سفر کا آغاز کیا۔
ایک موقع پر رہنما نے ایک روایتی لباس اٹھاتے ہوئے کہا "یہ ہمارا منچو لباس ہے” اور احمد کو اسے پہننے کی دعوت دی۔ جب احمد نے "ایج” لباس پہنا تو اسے یوں لگا جیسے وہ ماضی میں پہنچ گیا ہو۔
میوزیم کی روشنیوں میں اس نے مختلف انداز اپنا کر یادگار تصاویر بنوائیں۔
میوزیم سے نکلتے ہی احمد کی نظر باہر موجود گھروں پر پڑی۔ دور سے نیلی اینٹوں اور سفید دیواروں کا امتزاج، سرمئی چھتیں اور متوازی لکیریں ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔ تجسس کے مارے وہ ایک صحن میں داخل ہوا جو ایک گھریلو قیام گاہ نکلا۔ مالک نے اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور اندر آنے کی دعوت دی۔
گھر کے مالک کے پیچھے اندر داخل ہوتے ہی احمد کو سرخ رنگ کے پینٹ شدہ لکڑی کے دروازے، مکئی اور مرچوں کے لٹکائے گئے جھرمٹ نظر آئے جو ہر طرف دیہی زندگی کے رنگ پیش کر رہے تھے۔ جب مہمان خانے کا دروازہ کھولا گیا تو ایک روایتی انداز کا شمال مشرقی گرم اینٹوں والا بستر یعنی "کانگ” نظر آیا۔ مالک نے بتایا کہ یہ برقی کانگ ہے جو لکڑی والے کانگ سے زیادہ آسان اور ماحول دوست ہے۔ اس نے کمرے کے کونے میں لگے تھرموسٹیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے درجہ حرارت بھی خود ایڈجسٹ کر سکتے ہو۔ کتنا جدید ہے، ہے نا؟۔ احمد نے تجسس سے بٹن دبایا اور بستر کی حدت میں نرمی سے تبدیلی محسوس کی۔ وہ مسکرا کر بولا "یہ الیکٹرک کانگ تو واقعی زبردست ہے۔”
تھوڑی دیر بعد خوش اخلاق میزبان کچھ اجزاء لے کر آئی اور کانگ پر رکھ دئیے۔ وہ بولی کہ "آج ہم مل کر چپچپے بین والے بنز بنائیں گے۔ یہ یہاں کے گھروں میں تہواروں کے موقع پر خاص طور پر بنتے ہیں۔” میزبان نے چپچپے چاول کے آٹے کی گیند اٹھائی اور بتایا کہ "پہلے اسے پیالے کی شکل دو، پھر اس میں لال بین کا مکسچر رکھو اور آہستہ آہستہ اسے گول کرو۔ دھیان رکھو، فلنگ باہر نہ نکلے۔” احمد نے بھی کوشش کی لیکن آٹا ضدی تھا، اسے بند کرنے کی کوشش میں ناکامی ہو رہی تھی۔ میزبان نے نرمی سے اس کی مدد کی اور قدم بہ قدم بین بن بنانے میں مدد دی۔ رفتہ رفتہ احمد کو طریقہ آ گیا۔ اگرچہ اس کے بنز مختلف سائز کے اور کچھ بے ڈھنگے سے تھے لیکن وہ اپنی شکل میں آنے لگے تھے۔
جب بنز بھاپ میں پکنے لگے تو میزبان نے احمد کو ایک اور خاص مقامی ڈش پیش کی۔ خاص خوشبو والی اس ڈش کا نام آئل ٹی نوڈلز تھا۔ کبھی فوجیوں کی خوراک رہنے والی یہ ڈش اب مہمانوں کے لئے خوشبودار اور گرما گرم تواضع بن چکی تھی۔ احمد نے پہلا نوالہ لیا تو اس کی خوشبو اور ذائقے نے دل کو چھو لیا۔
اسی لمحے سٹیمر کی گھنٹی بجی اور میٹھے بنز کی خوشبو نے باورچی خانے کو بھر دیا۔ جب سٹیمر کھولا گیا تو بنز پھولے پھولے اور گول مٹول تھے۔ احمد نے فوراً ایک اٹھایا اس پر ہلکی سی پھونک ماری اور پہلا نوالہ لیا۔ "مزے دار! بہت مزے دار!” وہ خوشی سے کہنے لگا اور انگوٹھا دکھایا۔
لنگ ڈونگ گاؤں میں احمد نے روایتی ثقافت کو نہ صرف دیکھا بلکہ اسے مکمل طور پر محسوس کیا۔ گاؤں کی جدید اور مضبوط سہولیات نے منچو لباس پہننے، الیکٹرک کانگ پر سونے، مقامی کھانے پکانے اور چکھنے جیسے تجربات کو مزید آسان اور یادگار بنا دیا۔ یہ سفر جو حیرتوں، خوشبوؤں اور گرمجوشی سے بھرپور تھا، احمد کے دل میں چینی اقلیتی ثقافت کا ان مٹ نقش چھوڑ گیا اور بجلی سے روشن دیہی زندگی کو اس کے اگلے سفر کے لئے ایک خوبصورت توقع بنا دیا۔


