بیجنگ (شِنہوا) عالمی انڈیکس فراہم کرنے والے ادارے ایم ایس سی آئی نے اگست 2026 کے انڈیکس جائزے کے نتائج جاری کئے، جس کے تحت ژی پو اے آئی سمیت 33 چینی کمپنیوں کو ایم ایس سی آئی چائنہ انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے۔
بیجنگ میں قائم چین کی معروف اے آئی ماڈل کمپنی ژی پو اے آئی ان تین بڑی کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں مکمل مارکیٹ کی قدر کے لحاظ سے ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی انڈیکس فنڈز کی چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
یہ تبدیلیاں 31 اگست کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد نافذ ہوں گی۔ ایم ایس سی آئی چائنہ انڈیکس، ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس اور ایم ایس سی آئی کے وسیع عالمی انڈیکس سلسلے کا حصہ ہے۔ اس لئے ان انڈیکسز کی پیروی کرنے والے عالمی فنڈز نئی شامل ہونے والی کمپنیوں کے حصص خریدیں گے۔
ایم ایس سی آئی چائنہ انڈیکس میں شامل کی جانے والی 33 کمپنیوں میں 31 اے شیئر کمپنیاں شامل ہیں جن میں حفاظتی پرزے بنانے والی کمپنی گوانگ ڈونگ فینگ ہوا ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ہولڈنگز اور سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی کمپنی کنگ سیمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں رجسٹرڈ ژی پو اے آئی اور کنگ بورڈ ہولڈنگز بھی ان کمپنیوں میں شامل ہیں۔
انڈیکس فراہم کرنے والے ادارے نے 32 چینی کمپنیوں کے حصص کو انڈیکس سے خارج بھی کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کمپنیوں کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی انڈیکسز میں چینی ٹیکنالوجی اور جدید ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار چینی اثاثوں میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔
ایم ایس سی آئی انڈیکسز کی پیروی کرنے والے غیر فعال فنڈز سے توقع ہے کہ وہ 31 اگست کو ان تبدیلیوں کے موثر ہونے پر اپنے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں ردوبدل کریں گے۔


