پاناما سٹی (لارڈ میڈیا) آبنائے ہرمز میں جاری جنگ کے باعث پاناما کینال سے بحری جہازوں کی گزرنے کی فیس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رواں ماہ کینال سے گزرنے کے لیے نیلام ہونے والے سلاٹس کی اوسط قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ہے۔
پاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والا ایک اہم آبی راستہ ہے جہاں سے ہر سال تقریباً 270 ارب ڈالر مالیت کا سامان گزرتا ہے۔ امریکا کی تقریباً 40 فیصد تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے جبکہ چین بھی اس کا بڑا صارف ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جاری تنازعات کے باعث عالمی بحری تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی جبکہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
پاناما کینال پر بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باعث انتظار کا دورانیہ اور فیس دونوں بڑھ گئی ہیں۔ بعض جہازوں کو جلدی گزرنے کے لیے 40 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور انتظار کا وقت بھی ہفتے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
پاناما کینال اتھارٹی نے جہازوں کے ڈرافٹ پر پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ پانی بچایا جا سکے کیونکہ ایل نینو کے باعث خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینال پر امریکا کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی بات کی ہے اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر اعتراض کیا ہے۔


