اسلام آباد (لارڈ میڈیا) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کام کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مسلسل حمایت کے باعث پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے مابین بڑھتے ہوئے روابط کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ نے 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک کے عرصے کا احاطہ کیا ہے، جس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابل کی عبوری حکومت ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں رکن ممالک کی جانب سے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ جاری تنازع دہشت گرد گروہوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور خطے کی سکیورٹی کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی طالبان حکام کے بعض ابتدائی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں تقریباً 2,000 ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کرنا شامل ہے۔
رپورٹ میں طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ کے ٹی ٹی پی قیادت کو خبردار کرنے کا ذکر بھی شامل ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف حملے نہ رکے تو طالبان کی حمایت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، رپورٹ نے طالبان کی دوہری حکمت عملی کی نشاندہی کی ہے، جہاں وہ کچھ جنگجوؤں کو سرحد سے دور منتقل کر کے اسلام آباد کے ساتھ بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے اپنی تنظیمی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں اور نئی ڈویژنز قائم کی ہیں، جبکہ مارچ میں اپنی موسمِ بہار کی مہم کا اعلان کیا، جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں اضافے کی اپیل کی گئی۔


