ہومتازہ ترینمقبوضہ فلسطینی علاقے میں پانی کی شدید قلت سے عوامی صحت کو...

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں پانی کی شدید قلت سے عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کی اکثر آبادی کو پینے کے پانی، صفائی اور حفظان صحت کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کے مطابق 13 لاکھ سے زائد افراد، جو کل آبادی کے آدھے سے بھی زیادہ ہیں، کو پینے اور کھانا پکانے کے لئے روزانہ فی کس 6 لیٹر سے بھی کم پانی مل رہا ہے۔

اوچا کے مطابق انسانی امدادی معیار کے تحت ہنگامی حالات میں فی کس روزانہ کم از کم 15 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں پینے، دھونے اور کھانا پکانے کا پانی شامل ہوتا ہے۔

دفتر کا کہنا ہے کہ مزید 7 لاکھ افراد کو گھریلو استعمال کے لئے فی کس روزانہ 9 لیٹر سے بھی کم پانی مل رہا ہے جس سے صفائی ستھرائی برقرار رکھنے، گھر صاف کرنے اور بچوں کی ضروریات پورا کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اوچا کے مطابق ہر چار میں سے تین افراد واٹر ٹینکروں سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ماہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے شراکت داروں نے غزہ بھر میں روزانہ پانی جمع کرنے کے 2500 سے زائد مقامات اور بے گھر افراد کی 100 سے زیادہ پناہ گاہوں تک پانی پہنچایا۔

اوچا نے کہا کہ پانی حاصل کرنے کے مقامات پر لوگوں کو شدید ہجوم کا سامنا ہے اور ان کے پاس اپنے گھر تک پانی لے جانے کے لئے برتنوں کی بھی شدید کمی ہے اور اس کی ذمہ داری اکثر بچوں پر آن پڑتی ہے۔ صرف آدھے خاندانوں کو بنیادی صفائی ستھرائی یا ذاتی بیت الخلا کی سہولت حاصل ہے جو انسان کو آلودگی سے محفوظ رکھتی ہے۔ باقی آدھی آبادی مشترکہ، غیر تسلی بخش يا غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرتی ہے جس سے صحت کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں