بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت آبی وسائل نے بتایا ہے کہ چین کے دوسرے سب سے لمبے دریا ’دریائے زرد‘ میں مسلسل 27 سالوں سے پانی کا بہاؤ بغیر رکاوٹ جاری ہے۔
وزارت کے تحت کام کرنے والے یلو ریور کنزروینسی کمیشن نے 1999 میں دریا کے پانی کا ایک منظم نظام شروع کیا تھا۔ تب سے اب تک پانی کی تقسیم کا کام صرف دریا کو سوکھنے سے بچانے تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک بہتر اور کثیرالمقاصد نظام میں بدل چکا ہے جو دریا کو ماحولیاتی لحاظ سے بہتر اور محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
2025-2026 کے عرصے کے دوران دریائے زرد کے طاس کے اہم آبی ذرائع کے علاقوں سے کل آمد تقریباً 48 ارب 92 کروڑ مکعب میٹر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سالوں کی اوسط سے تقریباً 7 فیصد زیادہ ہے۔
ماحولیاتی پانی کی بحالی اور ایک طاس سے دوسرے طاس میں منتقلی کے لئے دریائے زرد سے 34 کروڑ 60 لاکھ مکعب میٹر پانی چین کے شمالی صوبے ہیبے منتقل کیا گیا جس سے علاقے میں دریاؤں اور جھیلوں کے نظام کی ماحولیاتی بحالی کے لئے پانی کا ایک مستحکم ذریعہ فراہم ہوا۔
وزارت نے بتایا کہ دریائے زرد کے طاس میں دریاؤں کی بحالی کے پہلے مرحلے کے تمام 18 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ مستقبل میں دریاؤں اور جھیلوں کا ماحولیاتی نظام بحال کرنے کی کوششوں کو مزید وسعت دی جائے گی جس کے لئے دوسرے مرحلے میں مزید 29 دریاؤں اور جھیلوں کو بحالی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔


