بیجنگ(شِنہوا)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کی وزارت خارجہ اور فلپائن میں چینی سفارت خانے نے فلپائن سے اس کے رہنما کے تائیوان معاملہ سے متعلق بیان پر شدید احتجاج کیاہے۔
فلپائنی رہنما نے بھارت کے دورے میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان تصادم ہوتا ہے تو فلپائن خود کو اس سے الگ نہیں رکھ سکتا کیونکہ ہم جغرافیائی طور پر بہت قریب ہیں۔ اگر آبنائے تائیوان میں مکمل جنگ چھڑتی ہے تو فلپائن بھی اس میں شامل ہو جائے گا۔
فلپائنی رہنما نے یہ بھی کہا کہ تائیوان میں فلپائنی باشندوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور اگر جنگ ہوئی تو فلپائن کو ان کو واپس لانے کے لئے مداخلت کرنا پڑے گی۔
ترجمان نے کہا کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ تائیوان کا معاملہ چین کا داخلی معاملہ ہے اور یہ چین کے بنیادی مفادات کے عین مرکز میں ہے۔ اسے کیسے حل کرنا ہے یہ صرف چینی عوام کا حق ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ فلپائن کی حکومت نے چین سے سنجیدہ وعدے کئے ہیں کہ وہ ایک چین کی پالیسی پر کاربند ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ تائیوان چینی علاقے کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور دوبارہ قومی اتحاد کے حصول کے لئے چینی حکومت کی کوششوں کو سمجھتی ہے۔ فلپائن کے رہنما نے بھی چین سے واضح طور پر کہا تھا کہ فلپائن ایک چین کی پالیسی کے لئے پرعزم ہے۔ تائیوان کا معاملہ مکمل طور پر چین کا اندرونی معاملہ ہے جسے چینی عوام کو خود حل کرنا ہے۔ ترجمان نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں لیکن فلپائن اب سنگین نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے الفاظ سے پھر رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس نے غلط اور اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات جاری رکھے ہیں۔ ایک چین کے اصول کو کمزور اور کھوکھلا کیا ہے اور چین-فلپائن تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ چین اس کی شدید مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ قریبی جغرافیائی مقام اور تائیوان میں فلپائنیوں کی بڑی تعداد کو دوسرے ممالک کے اندرونی اور خودمختاری کے معاملات میں مداخلت کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دعوے نہ صرف بین الاقوامی قانون اور آسیان چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام اور اپنی قوم کے بنیادی مفادات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہم فلپائن پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک چین کے اصول اور سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق چین-فلپائن مشترکہ اعلامیے کی روح کی سنجیدگی سے پاسداری کرے اور چین کے بنیادی مفادات سے متعلق معاملات پر آگ سے کھیلنا بند کرے۔


