ہرارے (شِنہوا) زمبابوے کے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ افریقی مصنوعات کے لئے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی سے باغبانی کی مصنوعات کو دنیا کی بڑی صارف منڈیوں میں سے ایک تک رسائی کے نئے مواقع ملنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کار ٹنگا میرائی ایرک موپونا نے کہا کہ زمبابوے اپنی دوسری قومی ترقیاتی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانا ملکی معیشت میں بنیادی تبدیلی کے اہم ذرائع قرار دیئے گئے ہیں۔
موپونا نے کہا کہ اس پس منظر میں زمبابوے اپنی برآمدی مصنوعات میں تنوع لانے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی پالیسی سے بلیو بیری، ترش پھلوں اور ایووکاڈو کی برآمد کے لئے اہم مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
زمبابوے اور چین نے گزشتہ سال ستمبر میں بلیو بیری کی برآمد کے لئے پودوں کی صحت سے متعلق معاہدہ کیا تھا۔ اس سے قبل زمبابوے سے میٹھے ترش پھلوں اور ایووکاڈو کی برآمد کے حوالے سے 2022 اور 2024 میں بالترتیب معاہدے کئے گئے تھے۔
یکم مئی کو چین نے ان 53 افریقی ممالک کی مصنوعات پر مکمل زیرو ٹیرف نافذ کر دیا ہے جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں، جن میں زمبابوے بھی شامل ہے۔
چین میں اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر موپونا نے کہا کہ زیرو ٹیرف سے فائدہ اٹھانے والی زمبابوے کی زرعی مصنوعات میں چینی منڈی میں اپنا حصہ بنانے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
قومی تجارتی فروغ کے ادارے زم ٹریڈ کے مطابق 2025 میں چین زمبابوے کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ریکارڈ سطح 4.39 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.7 فیصد زیادہ ہے۔
زم ٹریڈ نے بتایا کہ زمبابوے نے چین کو ڈیوٹی فری برآمدات کے لئے تمام تقاضے پورے کر لئے ہیں۔ ادارے نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ سرٹیفکیٹ آف اوریجن حاصل کریں اور صحت، کسٹمز اور نقل وحمل کے معیار پر پورا اتریں۔


