نیروبی (شِنہوا) کینیا کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چین کے صنعتی شعبے نے بنیادی ڈھانچے، سرمایہ، ٹیکنالوجی، پیداواری تجربے اور عالمی منڈیوں کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں صنعتی ترقی کے لئے اہم معاونت فراہم کی ہے۔ انہوں نے ’’چین کی وجہ سے مشکلات‘‘ کے نام نہاد الزام کو مسترد کر دیا۔
کینیا میں قائم تھنک ٹینک افریقہ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ پالیسی تجزیہ کار لیوس این ڈیچو نے شِنہوا کو حالیہ تحریری انٹرویو میں کہا کہ ’’چین کی وجہ سے مشکلات‘‘ کا نام نہاد بیانیہ گمراہ کن ہے۔ یہ پیچیدہ بین الاقوامی اقتصادی حرکیات کو محض ایک ایسے مقابلے میں محدود کر دیتا ہے جس میں ایک کی کامیابی کو دوسرے کی ناکامی سمجھا جاتا ہے اور غلط طور پر یہ فرض کرتا ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی لازماً دیگر ترقی پذیر ممالک کی قیمت پر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ چین گلوبل ساؤتھ کے بیشتر ممالک کے لئے ایک اہم تجارتی شراکت دار، سرمایہ کاری کا ذریعہ، بنیادی ڈھانچے کا ڈویلپر اور ٹیکنالوجی شراکت دار بن چکا ہے۔ اس کا تعاون روایتی طور پر خام مال کی برآمد تک محدود نہیں رہا بلکہ اب رابطے، مینوفیکچرنگ اور صنعتی صلاحیت کو فروغ دینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘‘
این ڈیچو کے خیال میں چین کے مینوفیکچرنگ شعبے نے بہت سی افریقی معیشتوں کے لئے صنعتی ترقی کی لاگت کم کرنے میں مدد دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کو سمجھنے کے لئے صنعتی ترقی کی خاطر درکار بنیادی ضروریات کو دیکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق چین کئی برسوں سے کینیا میں ریلوے، سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں شریک رہا ہے، جس سے رابطہ کاری بہتر ہوئی، رسد کی رکاوٹیں کم ہوئیں اور کینیا کے علاقائی منڈیوں سے روابط مضبوط ہوئے۔


