ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکشپلومیسی: دنیا کی میزبانی، مستقبل کی تعمیر

شپلومیسی: دنیا کی میزبانی، مستقبل کی تعمیر

بیجنگ (شِنہوا) جیسے جیسے چین کا بڑا تجارتی مرکز شین زین نومبر میں 33 ویں ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون سربراہی اجلاس کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا ہے، چین گرمجوشی سے عالمی رہنماؤں کو خوش آمدید کہنے کے لئے اپنی بانہیں پھیلائے ہوئے ہے۔

چین نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران متعدد بڑی سفارتی تقاریب کی میزبانی کی ہے جن میں عالمی رہنما ایک جگہ جمع ہوئے۔ یہ تقاریب محض بات چیت کے پلیٹ فارم نہیں تھے بلکہ ان کے ذریعے عالمی تعاون پر مبنی چین کے وژن کی عکاسی ہوئی اور صدر شی جن پھنگ کے اسلوب سفارت کاری کی جھلک بھی دیکھنے کو ملی۔

صدر شی کے لئے دنیا کے رہنماؤں کی میزبانی مہمان نوازی سے شروع ہوتی ہے۔

مئی 2023 میں اپنی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف قديم شاہراہ ریشم کے شہر شی آن پہنچے جہاں وہ چین کے سرکاری دورے اور پہلے چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ اپنی بات چیت کے دوران شی جن پھنگ نے اپنے معزز مہمان کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

صدر شی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس خاص موقع پر آپ کی آمد ہمارے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے اور چین کے ساتھ آپ کے منفرد رشتے کی توثیق کرتی ہے۔

روانی کے ساتھ چینی زبان بولنے والے توکائیف نے چینی زبان میں جواب دیا کہ ’’آپ کا شکریہ۔‘‘

ایک پرانی چینی کہاوت ہے کہ "کیا دور دراز سے دوستوں کا آپ سے ملنے آنا واقعی بہت خوشی کی بات نہیں ہے؟”

چین کے شمال مغربی صوبے شانشی کے شہر شی آن کے تانگ پیراڈائز میں 18 مئی 2023 کو چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے وسطی ایشیائی رہنماؤں اور ان کی بیگمات کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کے دوران فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)

عالمی غیر یقینی صورتحال کے ادوار میں ان تقاریب نے ایسے پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کیا ہے جہاں چین نے باہمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے مذاکرات، کھلے پن اور تعاون کی تاکید کی۔

2016 میں چین نے پہلی بار جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ صدر شی کی زیر صدارت ہونے والا یہ سربراہی اجلاس عالمی اقتصادی نظام حکومت میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

اس سربراہی اجلاس میں پہلی بار ترقی کو عالمی میکرو پالیسی ایجنڈے میں سب سے آگے رکھا گیا۔ اجلاس میں ریکارڈ تعداد میں ترقی پذیر ممالک نے شرکت کی اور اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد آگے بڑھانے کے لئے ایک ایکشن پلان کی منظوری بھی دی گئی اور ساتھ ہی افریقہ اور پسماندہ ممالک میں صنعتی ترقی کی حمایت کے لئے پہلا مشترکہ عزم بھی سامنے آیا۔

وہ پرانے دوستوں کا استقبال کر رہے ہوں یا پہلی بار آنے والے مہمان، شی کی توجہ چین کی سفارت کاری کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکی ہے، جو باہمی اعتماد اور دوستی کو فروغ دیتی ہے۔

پھر بھی یہ اجتماعات صرف مہمان نوازی کے بارے میں نہیں ہیں۔

عالمی غیر یقینی کے دور میں، یہ مواقع بھی رہے ہیں جہاں چین نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے مکالمہ، کھلے پن اور تعاون کی اپیل کی ہے۔

2016 میں، چین نے پہلی بار گروپ آف 20 (جی20) سمٹ کی میزبانی کی۔ شی کی صدارت میں یہ سربراہی اجلاس عالمی اقتصادی حکمرانی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

سربراہی اجلاس میں، پہلی بار ترقی کو عالمی میکرو پالیسی ایجنڈے میں سب سے آگے رکھا گیا۔ اس سمٹ میں ترقی پذیر ممالک کی ریکارڈ تعداد کو اکٹھا کیا گیا، جس میں اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈا برائے پائیدار ترقی کے نفاذ کے لیے ایک ایکشن پلان بھی منظور کیا گیا، اور افریقہ اور کم ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی ترقی کی حمایت کے لیے پہلی بار اجتماعی عزم بھی سامنے آیا۔

یہ اقدامات، سربراہی اجلاس کے نتائج کے دستاویزات کے ساتھ مل کر، چین کی مشترکہ ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

چینی صدر شی جن پھنگ 4 ستمبر 2016 کو چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو میں جی 20 سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب کی صدارت کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)

جیسا کہ آج دنیا بڑھتے ہوئے تنازعات کے ساتھ ساتھ تسلط پسندی، تحفظ پسندی اور دیگر عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہے اس لئے صدر شی نے اپنی اہم تجاویز پیش کرنے کے لئے چین کی میزبانی میں ہونے والی اہم سفارتی تقاریب کا انتخاب کیا ہے۔

گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو کی نقاب کشائی 2022 میں بوآؤ فورم فار ایشیا میں کی گئی جس کے بعد 2023 میں ’کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ ان ڈائیلاگ ود ورلڈ پولیٹیکل پارٹیز ہائی لیول میٹنگ‘ میں گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کا اعلان ہوا، گزشتہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن سربراہی اجلاس میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا گیا اور 2024 میں پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں عالمی ترقی کے اقدامات نافذ کرنے کی نئی کال دی گئی۔

2 ستمبر 2018 کو فورم آن چائنہ-افریقہ کوآپریشن کے بیجنگ سربراہی اجلاس کے افتتاح سے قبل شی جن پھنگ نے افریقی رہنماؤں کے ساتھ 11 دوطرفہ ملاقاتیں کیں اور ہر ملاقات کا وقت منٹ کے حساب سے طے شدہ تھا۔

2016 کے جی 20 ہانگژو سربراہی اجلاس میں صدر شی نے 80 سے زائد گھنٹوں میں 13 ملاقاتوں اور مختلف تقاریب میں شرکت کی جن میں ان کی 11 تقاریر اور 27 غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ 2018 کے ایس سی او چھنگ دو سربراہی اجلاس میں انہوں نے دو دنوں میں 20 سے زائد سرکاری تقاریب میں شرکت کی۔

یہ انتہائی مصروف شیڈول نہ صرف چین کی سفارتی سرگرمیوں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی بات چیت اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے شی کی ذاتی لگن کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

چین نے نہ صرف نظریات پیش کرنے کی کوشش کی ہے، بلکہ انہیں عمل میں بھی ڈھالا ہے۔

2013 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے آغاز سے اب تک اس نے عالمی سطح پر تقریباً 10 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور شریک ممالک میں کم از کم 5 لاکھ ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ افریقہ اور دنیا کے دیگر متعدد حصوں میں پھلتی پھولتی بیلٹ اینڈ روڈ شراکت داری کو بڑے پیمانے پر خوشحالی کی راہ سمجھا جاتا ہے۔

صدر شی نےاس تعاون پر مبنی منصوبوں، 8 بڑے اقدامات اور 9 پروگراموں کے کامیا ب نفاذ کے بعد 2024 کے فوکاک بیجنگ سربراہی اجلاس میں چین-افریقہ تعلقات کے نئے تناظر اور شراکت داری کے 10 اقدامات کا اعلان کیا جس نے جدید کاری کی مشترکہ جستجو میں ایک نیا باب کھول دیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے علاقے شی دان میں 29 اگست 2024 کو فورم آن چائنہ-افریقہ کوآپریشن کے سربراہی اجلاس کی مناسبت سے سجایا گیا ایک گلدستہ دکھائی دے رہا ہے۔ (شِنہوا)

گزشتہ کئی سالوں کے دوران چین کی میزبانی میں ہونے والی اہم سفارتی تقاریب ایک ایسے سفر کی علامت رہی ہیں جس میں چین اور باقی دنیا نے ایک ساتھ مل کر پیش رفت کی ہے۔

جیسے ہی چین شین زین میں دنیا کا استقبال کر رہا ہے، یہ امن و ترقی پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے، کھلے پن اور تعاون کو مضبوط بنانے سمیت انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر میں ایک نیا باب کھولنے کے لئے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کر رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں