ایتھوپیا میں چین کے تیار کردہ ابتدائی انتباہی نظام ’’مازو‘‘ (ملٹی ہیزرڈ، الرٹ، زیرو گیپ اینڈ یونیورسل) کی بدولت موسمی پیش گوئی اور قدرتی آفات سے پیداشدہ صورتحال سے نمٹنے کی تیاریاں بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
چین کی موسمیاتی انتظامیہ کے مطابق یہ نظام مصنوعی ذہانت کو موسمی پیش گوئی کے طبعی ماڈلز، سیٹلائٹ مشاہدات اور مقامی موسمیاتی ڈیٹا کے ساتھ یکجا کر کے زیادہ درست موسمی پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے۔
چین سے آئے ماہرین کی دی گئی خصوصی تربیت کی بدولت ایتھوپیا کے ماہرینِ موسمیات اب خشک سالی، اچانک آنے والے سیلاب اور دیگر خطرات سے متعلق فوری انتباہات جاری کرنے کے لئے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔
ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اسامینیو تیشومے کے مطابق’’مازو‘‘ نے ایتھوپیا کے محکمۂ موسمیات (ای ایم آئی) کو افریقی براعظم میں اس شعبے کا ایک رہنما ادارہ بنا دیا ہے۔
تیشومے نے مزید کہا کہ ای ایم آئی کا مقصد یہ ہے کہ وہ دیگر افریقی موسمیاتی مراکز کے ساتھ اپنے عملی تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے ایک علاقائی علمی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): اسامینیو تیشومے، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، محکمۂ موسمیات، ایتھوپیا
’’چین کی موسمیاتی انتظامیہ نے ’’مازو‘‘ نظام کی تنصیب پہلے ہی مکمل کر کے اسے ایتھوپیا کے محکمۂ موسمیات کے حوالے کر دیا ہے۔ اس طرح ایتھوپیا کے محکمۂ موسمیات نے چین کی موسمیاتی انتظامیہ سے "مازو” نظام کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ اب ہم اسے عملی طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ فوری اور قلیل مدتی موسمی پیش گوئیاں جاری کی جا سکیں۔‘‘
’’مازو‘‘ اب ڈیجیٹل کلاؤڈ کے ذریعے 40 سے زائد ممالک کے لئے دستیاب ہے۔ مختلف ممالک میں ا‘ن کی ضروریات کے مطابق اس نظام کے خصوصی ورژن بھی نصب کئے جا چکے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اسامینیو تیشومے، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، محکمۂ موسمیات، ایتھوپیا
’’ہم مختلف شعبوں میں چین کی موسمیاتی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے موسم اور موسمیاتی خدمات کے شعبے میں مختلف سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت میں استعدادِ کار بڑھانے، موسمی پیش گوئی، موسمیاتی پیش گوئی اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے حوالے سے مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
موسم اور آب و ہوا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اسی لئے ایتھوپیا کا محکمۂ موسمیات مختلف سرگرمیوں میں قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔‘‘
ادیس ابابا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


