بیجنگ (شِنہوا) میکسیکو کے قدیم مایا آثار قدیمہ کے مقام چیچن اتزا میں پتھر کے اہرام اور مندر اب بھی ایک ایسی شاندار تہذیب کی داستانیں سناتے ہیں جو صدیوں پہلے پھلی پھولی تھی۔
پانچویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والا یہ تاریخی مقام ایک دہائی سے بھی پہلے چینی صدر شی جن پھنگ کے میکسیکو کے سرکاری دورے کے دوران تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا مرکز بنا۔
جون 2013 میں صدر شی اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن نے میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان پر واقع اس مقام کا دورہ کیا جب میکسیکو کے صدر اینریک پینا نیتو اور ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
انہوں نے وہاں بنے ہوئے نقش و نگار کے معانی کے بارے میں دریافت کیا اور مایا ثقافتی عناصر اور چینی روایات بشمول ڈریگن سے منسلک علامات کے درمیان مماثلتوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کو اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے اور بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنا چاہیے تاکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی حاصل کی جا سکے۔
چینی صدر نے گزشتہ برسوں کے دوران ہمیشہ مختلف تہذیبوں سے حکمت اور توانائی حاصل کرنے کی ترغیب دی اور اس کے ساتھ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا ہے۔
2014 میں پیرس میں اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) میں اپنے تاریخی خطاب کے دوران صدر شی نے مشہور فرانسیسی مصنف وکٹر ہیوگو کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ سمندر سے بھی زیادہ وسیع ایک منظر ہے اور وہ آسمان ہے اور آسمان سے بھی زیادہ وسیع ایک منظر ہے اور وہ انسانی روح ہے۔ واقعی جب ہم مختلف تہذیبوں کے قریب آتے ہیں تو ہمیں آسمان سے بھی زیادہ وسیع ظرف کی ضرورت ہوتی ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ 27 مارچ 2014 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) کے ہیڈ کوارٹرز میں خطاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چیچن اتزا کا دورہ تہذیبوں کے درمیان تبادلوں کے بارے میں صدر شی کے وسیع تر نقطہ نظر کی ایک مثال تھا۔ پیرس میں شی جن پھنگ نے مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے کی کہانیاں شیئر کیں۔
انہوں نے کہا چین کی چار بڑی ایجادات یعنی کاغذ سازی، بارود، متحرک ٹائپ پرنٹنگ اور قطب نما نے یورپی نشاۃ ثانیہ سمیت دنیا بھر میں انقلابی تبدیلیاں برپا کیں۔ چین کا فلسفہ، ادب، طب، ریشم، چینی ظروف اور چائے مغرب تک پہنچے اور وہاں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ تہذیبوں کے درمیان تبادلے کوئی یکطرفہ عمل نہیں بلکہ باہم سیکھنے سے حاصل ہونے والی پیشرفت کا ایک ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا یہ میرا پختہ ایمان ہے کہ اگر کوئی مختلف تہذیبوں کو سچے دل سے سمجھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے مساوات اور عاجزی کا رویہ ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی تہذیب کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ اس کے جوہر سمجھنے میں مدد نہیں دے سکتا بلکہ اس کو مخالف بنانے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ تاریخ اور حقیقت دونوں ظاہر کرتی ہیں کہ تعصب اور غرور تہذیبوں کے درمیان تبادلوں اور باہم سیکھنے کی راہ میں دو سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو میں صدر شی نے مقامی موسیقاروں کے ساتھ سٹیل پین بجایا۔ فجی میں انہوں نے روایتی بولا شرٹ پہن کر مقامی گانے سنے۔ ازبکستان میں انہوں نے قدیم شہر بخارا کا دورہ کیا جسے شاہراہ ریشم کا زندہ مجسمہ کہا جاتا ہے۔
بخارا میں مقامی روایتوں کے لئے صدر شی کے احترام نے اس قدیم شہر کے ایک ماہر دستکار انوار قربانوف پر گہرا اثر چھوڑا۔

ازبکستان کے شہر بخارا میں 3 اگست 2026 کو لوگ پوئی آئی کلیان کمپلیکس سے گزر رہے ہیں۔(شِنہوا)
قربانوف نے 2016 میں اس شہر کے شی جن پھنگ کے دورے سے متعلق کہا کہ مجھے اب بھی یاد ہے کہ صدر شی نے نمائش کے لئے رکھی گئی دستکاریوں کو کتنے غور سے دیکھا تھا۔ میں ان کی ہماری ثقافت کو سمجھنے اور اس کا احترام کرنے کی دلی خواہش محسوس کر سکتا تھا۔ اس دورے کے بعد سے چینی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بخارا آ رہی ہے۔
صدر شی نے مختلف بین الاقوامی مواقع پر تنوع میں ہم آہنگی، شمولیت اور باہم سیکھنے کے اصولوں کی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہر ملک کو اپنی قومی شرائط اور اپنے عوام کی ضروریات کے مطابق ترقی کی راہ منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔
شی جن پھنگ نے 2014 میں بھارت کے شہر نئی دہلی میں انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ میں نے اکثر اس بات پر زور دیا ہے کہ چین کا ہدف ایک ایسی عظیم قوم بننا ہے جو مسلسل سیکھنے پر یقین رکھتی ہو۔ ہمیں خود اطمینانی اور تکبر سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے ہمیں عاجزی اور انکسار اختیار کرتے ہوئے سخت محنت سے بلا ناغہ سیکھنا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارتے رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عاجزی اور شمولیت پر مبنی یہ سیکھنے کا جذبہ ہی ہے جس نے چینی قوم کو ہزاروں سالوں سے مسلسل پیشرفت کرنے کے قابل بنایا ہے۔


