ہومتجزیے تبصرےفیلڈ مارشل عاصم منیر اور کیپیسٹی چارجز کا عذاب

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور کیپیسٹی چارجز کا عذاب

دنیا کی تاریخِ کا یہ اٹل اور ناقابلِ تردید سبق ہے کہ سلطنتیں ہمیشہ شمشیرِ آہن سے مسمار نہیں ہوتیں، بلکہ بسا اوقات وہ اپنے ہی ایوانوں میں لکھی جانے والی ایسی معاشی دستاویزات کی نذر ہو جاتی ہیں جن کے الفاظ روشنائی سے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر سے لکھے جاتے ہیں۔ جب اقتدار کی مسندوں پر بیٹھے ہوئے اہلِ اختیار قومی امانت کو محض اعداد و شمار کا کھیل سمجھنے لگیں، جب ریاستی فیصلوں کا میزان عوامی فلاح کے بجائے محدود مفادات کے گرد گھومنے لگے اور جب قوم کے جسم سے آخری قطرۂ خون بھی محصولات، محصولات پر محصولات اور مہنگی توانائی کی صورت میں نچوڑ لیا جائے تو پھر بحران محض معاشی نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک اخلاقی، سیاسی اور تہذیبی المیہ بن جاتا ہے۔اسی طرح
پاکستانی عوام کے لیے کیپیسٹی چارجز اس وقت ایک ڈرونا خواب بن چکا ہے چونکہ یہ قیمت ریاست پاکستان ان آئی پی پیز کو ڈالرز میں ادا کررہی ہے اور ڈالر پاکستانی معیشت کو جس برے انداز سے کھا رہا ہے اس نے پاکستان کی معیشت کی تمام بنیادوں کو بالکل کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکمران خصوصی طور پر میاں برادران جبکہ وزیراعظم محترم شہباز شریف کے لاڈلے سپوت سلمان شریف ان سے منسلک دیگر انہی کی طرح کے بڑے کاروباری افراد جن میں صدر آصف علی زرداری ان کے قریبی رفقا جہانگیر ترین میاں منشا ستارہ انڈسٹری فیصل أباد کے مالک جو میاں نوازشریف کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں کے علاوہ ایسے تمام سیاستدان، بزنس مین جو کیپیسٹی چارجز کے نام پر پاکستانی قوم کو سالوں سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ کیا اب یہ وقت نہیں آ گیا کہ کیپیسٹی چارجز کے نام پر جو کالا دھندہ کیا جا رہا ہے اسے ختم کیا جائے؟تاکہ پاکستانی عوام کے کرب اور دکھوں کا مداوا کیا جاسکے چونکہ کیپیسٹی چارجز کے نام پر
پاکستان کی سرزمین آج اسی کرب ناک داستان کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف لاکھوں خاندان بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کی تپش میں جھلس رہے ہیں، صنعتوں کے دھویں اگلتے کارخانے خاموش کھڑے ہیں، نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں مستقبل تلاش کر رہے ہیں اور دوسری طرف توانائی کے شعبے سے متعلق ایسے معاہدوں پر برسوں سے سوالات اٹھ رہے ہیں جنہیں ناقدین قومی معیشت پر مسلسل مالی دباؤ کا ایک اہم سبب قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کیپیسٹی چارجز محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہے بلکہ عوامی اضطراب اور ریاستی پالیسی پر سوال کی علامت بن چکے ہیں۔

یہاں اصل سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک دور کا نہیں، بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کا ہے۔ اگر ایک پالیسی دہائیوں تک برقرار رہی، اگر مختلف حکومتیں اسے جاری رکھتی رہیں، اگر ادارے اس کی نگرانی کرتے رہے، تو پھر احتساب بھی کسی ایک چہرے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہونا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی آئین اور جمہوریت کی روح بھی یہ وقت نعروں کا نہیں، محاسبے کا ہے؛ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، شفافیت کا ہے؛ اور یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ یہ پوچھنے کا ہے کہ کیا توانائی کی ہر پالیسی نے واقعی قومی مفاد کو اولین ترجیح دی؟ کیا ہر معاہدہ آج بھی انہی معاشی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے جن کے تحت وہ کیا گیا تھا؟ اگرنہیں، تو پھر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون، معاہدوں کی پابندی اور قومی مفاد کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جو عوام، صنعت اور معیشت تینوں کو ریلیف دے۔

اقبالؒ نے کہا تھا
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

یہ بغاوت کا نہیں بلکہ اصلاح کا استعارہ ہے۔ یہ اس نظام کے خلاف احتجاج ہے جس میں محنت کرنے والا محروم اور وسائل پر قابض طبقے محفوظ رہیں۔ ریاست کا وقار اسی میں ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے ایک ہی قانون، ایک ہی احتساب اور ایک ہی معیار کو نافذ کرے۔

پاکستان کی بقا کا راستہ صرف مزید بجلی پیدا کرنے میں نہیں بلکہ انصاف پیدا کرنے میں ہے صرف سرمایہ کاری بڑھانے میں نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے میں ہے اور صرف نئے معاہدے کرنے میں نہیں بلکہ پرانے فیصلوں کا دیانت دارانہ محاسبہ کرنے میں ہے۔ قومیں اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے حکمران جواب دہ ہوں ان کے ادارے مضبوط ہوں اور ان کی پالیسیاں آنے والی نسلوں کے مفاد کو موجودہ سیاسی مصلحتوں پر ترجیح دیں مگر بدقسمتی سے ریاست پاکستان میں ہمارے موجودہ صاحب اقتدار اور مسنداقتدار پر براجمان قومی شخصیات ایسا ہرگز نہیں کریں گی لہذااب یہ ساری ذمہ داری فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی عوام کو ان لوٹ مار کرنے والے سیاستدان، بھلے کوئی بھی ہو ان سے نجات دلائیں بلکہ ان سب کا قومی سطح پر احتساب کیا جانا چاہیے انہیں قانون کے کٹہرے میں سرعام کھڑا کیا جانا چاہیے اور سالوں سے کیپیسٹی چارجز کے نام پر جو لوگ، جو بزنس مین پاکستان کو اور پاکستان کے اداروں کو لوٹ رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو انہوں نے تباہ و برباد کر دیا ہے، ان سے وہ تمام رقوم واپس لے جائیں بلکہ انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور ایسے قوانین نافذ کیے جائیں کہ قومی سطح پر جو پاکستان کے اندر اگر کوئی بزنس کرنا چاہتا ہے تو اس کے بزنس کااس کی سرمایہ کاری کا تحفظ بھی ہو اور پاکستانی عوام کا بھی اس میں مفاد ترجیحی بنیادوں پر شامل ہو مگر کیپیسٹی چارجز کے نام پر یہ کالا دھندہ فی الفور بند کیا جاۓ بلکہ جن لوگوں نے کیپیسٹی چارجز کی اصلاح نافذ کی تھی اور یہ قوانین بنائے تھے اور جو لوگ اس سے مستفید ہوتے رہے ہیں بھلے اس میں وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے ہوں، آصف علی زرداری ہوں یا کوئی بھی دوسرا بڑا بزنس مین ہو، ان سب کو قانون کے کٹہرے میں فوری طور پر لے کے آیا جائے۔ یہی پاکستان کی بقا کا ایک واحد راستہ ہے اور پاکستانی قوم کی اس وقت ایک امید فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی بن رہی ہے کہ وہ یہ نیکی کا کام اپنی نگرانی میں کریں اس عمل سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور پاکستانی فوج اسی وقت بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں سے پیسی ہوٸی قوم اور معیشیت پر ایک احسان عظیم ہوگا جسے پاکستانی قوم پاکستانی فوج اور فیلڈ مارشل کے اس احسان کو ساری زندگی یاد رکھے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں