ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے کے بعدمشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے سب سے بڑے محور کے طور پر ابھر رہا ہے۔ غزہ کی جنگ، ایران اور اسرائیل کی کشیدگی، شام اور عراق کی مسلسل غیر یقینی صورتحال، یمن کے تنازع اور خلیجی ممالک میں بدلتے اتحاد اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ خطہ ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے "نیا مشرقِ وسطیٰ” (The New Middle East) کا تصور بار بار زیرِ بحث آتا رہا ہے۔
اس تصور کے مطابق مقصد صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاسی، جغرافیائی، معاشی اور سیکیورٹی ساخت کو ازسرِنو ترتیب دینا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مختلف منصوبوں اور مقالوں کو اکثر ایک مربوط منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی نوعیت، حیثیت اور سرکاری اہمیت ایک جیسی نہیں۔ بعض صرف پالیسی مباحث کا حصہ تھے، بعض تجزیاتی آراء، جبکہ بعض پر مبصرین نے اسرائیلی یا مغربی حکمتِ عملی کے تناظر میں بحث کی ہے۔
1916ء کے سائکس پیکو معاہدے نے پہلی عالمی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی جدید سرحدوں کی بنیاد رکھی۔ برطانیہ اور فرانس نے عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد اپنی سیاسی ضرورتوں کے مطابق نئی ریاستیں تشکیل دیں۔ ناقدین کے مطابق انہی مصنوعی سرحدوں نے مستقبل کے کئی نسلی، مذہبی اور مسلکی تنازعات کو جنم دیا۔ آج جب نیا مشرقِ وسطیٰ کی بات کی جاتی ہے تو اس کا بنیادی تصور انہی سرحدوں میں ممکنہ تبدیلی سے جوڑا جاتا ہے۔
اس بحث میں سب سے زیادہ حوالہ امریکی فوج کے سابق لیفٹیننٹ کرنل رالف پیٹرز کے 2006ء کے مضمون "Blood Borders: How a Better Middle East Would Look” کو دیا جاتا ہے، جو Armed Forces Journal میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں ایک تصوراتی نقشہ پیش کیا گیا جس میں کرد اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک آزاد کردستان، عراق کو شیعہ، سنی اور کرد حصوں میں تقسیم کرنے، سعودی عرب کی جغرافیائی تشکیل بدلنے اور بلوچستان کے حوالے سے پاکستان اور ایران کی سرحدوں میں تبدیلی جیسے خیالات شامل تھے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ نقشہ امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی نہیں تھا بلکہ ایک مصنف کی تجزیاتی رائے تھی، اگرچہ اس نے عالمی سطح پر وسیع بحث کو جنم دیا۔اسی طرح عودید ینون پلان کا بھی اکثر ذکر کیا جاتا ہے۔
1982ء میں شائع ہونے والے اس مضمون میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کے لیے پڑوسی ممالک کی اندرونی تقسیم اور کمزوری اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس میں شام، عراق اور مصر جیسے ممالک کے ممکنہ داخلی انتشار پر گفتگو کی گئی۔ بعض تجزیہ کار اسے اسرائیلی اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے محققین اسے ایک فرد کا تجزیہ سمجھتے ہیں، نہ کہ سرکاری حکمتِ عملی۔
گزشتہ دو دہائیوں کے واقعات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ عراق پر 2003ء کے حملے کے بعد وہاں فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوا، شام خانہ جنگی کا شکار ہوا، لیبیا میں ریاستی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا، یمن ایک طویل تنازع میں الجھ گیا اور لبنان مسلسل سیاسی و معاشی بحران سے دوچار رہا۔ ان تمام واقعات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا کہ کیا خطہ بتدریج چھوٹی اور کمزور اکائیوں میں تقسیم ہو رہا ہے، یا یہ صرف داخلی اور علاقائی تنازعات کا نتیجہ ہے۔
نیا مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا اہم پہلو معاشی اور سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل نو ہے۔ ابراہیمی معاہدات کے ذریعے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہوئے، جنہوں نے خطے میں نئے اتحادوں کی بنیاد رکھی۔ ان معاہدات کے حامی انہیں معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ فلسطینی مسئلے کو پس منظر میں دھکیل کر خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔توانائی، تجارتی راہداریوں، بندرگاہوں، سمندری راستوں، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور دفاعی تعاون کے نئے منصوبے بھی اسی بڑی تبدیلی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اب صرف تیل کا خطہ نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین، بحری تجارت، معدنی وسائل، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور جغرافیائی سیاست کا مرکزی میدان بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، چین، روس، یورپی ممالک، ترکی، ایران اور خلیجی ریاستیں سب اس خطے میں اپنے اپنے مفادات کے مطابق اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کسی ایک طاقت کے پاس پورے مشرقِ وسطیٰ کو ازسرِنو تقسیم کرنے کا کوئی جامع اور قابلِ عمل منصوبہ موجود ہے؟ شواہد اس بات کی قطعی تصدیق نہیں کرتے۔ البتہ یہ ضرور حقیقت ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق اتحاد، دباؤ، سفارت کاری، معاشی منصوبوں اور سیکیورٹی انتظامات کے ذریعے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ریاستوں کی خودمختاری، قومی سلامتی، توانائی، تجارت اور علاقائی طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔ اس تبدیلی کو صرف سازشی نظریات یا صرف اتفاقات سے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ تاریخی حقائق، عالمی طاقتوں کے مفادات، مقامی سیاسی عوامل، معاشی تبدیلیوں اور علاقائی تنازعات کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔
نیا مشرقِ وسطیٰ اگر وجود میں آتا ہے تو اس کی بنیاد صرف سرحدوں کی تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ طاقت کے نئے مراکز، معاشی انضمام، سیکیورٹی اتحاد، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارتی ترجیحات اس کی اصل شناخت ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اس خطے کی ہر تبدیلی نہ صرف عرب دنیا بلکہ پاکستان، ایران، ترکی، جنوبی ایشیا اور پوری عالمی سیاست اور معیشیت پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔


