بیجنگ (شِنہوا) بیجنگ کے صاف آسمان شہر میں فضائی آلودگی سے نمٹنے میں ہونے والی پیش رفت کی نمایاں علامت بن چکے ہیں اور اس پیش رفت کے پس پردہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
2025 میں بیجنگ میں ہوا کے معیار کے لحاظ سے 311 دن اچھے رہے جبکہ شدید آلودگی والا صرف ایک دن ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں 2013 میں شدید آلودگی کے 58 دن ریکارڈ ہوئے تھے، جب شہر نے باضابطہ طور پر پی ایم 2.5 کی نگرانی کے اعداد و شمار جاری کرنا شروع کئے تھے۔ فضائی معیار کا اہم پیمانہ سمجھے جانے والے سالانہ اوسط پی ایم 2.5 ارتکاز میں 2013 کے 89.5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے 2025 میں 27 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک کمی آئی، جو تقریباً 70 فیصد کمی ہے۔
اس پیش رفت نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے فضائی معیار بہتر بنانے کے حوالے سے بیجنگ کے تجربے کو دیگر شہروں کے لئے ایک نمونہ قرار دیا ہے۔
بیجنگ میونسپل ایکولوجیکل اینڈ انوائرنمنٹل مانیٹرنگ سنٹر کے ماہرین کے مطابق صاف ہوا ماحولیاتی نگرانی، سائنسی تجزیے، پالیسی سازی، علاقائی تعاون اور قانون کے نفاذ پر مشتمل ایک جامع نظام کا نتیجہ ہے، جس کی ہر کڑی میں اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
موثر نظم و نسق کا آغاز درست نگرانی سے ہوتا ہے۔ بیجنگ نے فضائی معیار کی نگرانی کا کثیر سطحی نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر بھر میں 35 معیاری مانیٹرنگ سٹیشن مسلسل چھ بڑے آلودہ عناصر کی پیمائش کرتے ہیں، جبکہ آبادیوں اور قصبوں میں نصب ایک ہزار سے زائد چھوٹے سینسرز مقامی فضائی معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
نگرانی کا یہ نظام بیجنگ میونسپل ایکولوجیکل اینڈ انوائرنمنٹل مانیٹرنگ سنٹر نے بتدریج قائم کیا۔ یہ چین کے ابتدائی ماحولیاتی اور ماحولیاتی نگرانی کے اداروں میں سے ایک ہے، جو بیجنگ کی ہوا، پانی، شور، مٹی اور ماحولیاتی نظام کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔
مرکز نے ایک ایسا تجزیاتی نظام تیار کیا ہے جو پی ایم 2.5 کے تقریباً 125 اجزاء کی شناخت کر سکتا ہے۔ اس طرح اس کے بیشتر اجزاء کا احاطہ ہوتا ہے اور محققین کو آلودگی کے ذرائع کا سراغ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
مرکز کے تکنیکی ڈائریکٹر لی یون تنگ نے کہا کہ’’ذرائع کا تجزیہ ہمیں مختلف مراحل میں آلودگی کے بڑے اسباب کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے پالیسی سازوں کو اہم اخراجی ذرائع کو ہدف بنانے کے لئے سائنسی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔‘‘
بیجنگ میونسپل ایکولوجی اینڈ انوائرنمنٹ بیورو کی نگرانی میں مرکز نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر پی ایم 2.5 کے ذرائع کے تجزیے کے چار ادوار مکمل کئے ہیں، جن کے نتائج 2014، 2018، 2021 اور 2025 میں جاری کئے گئے۔
تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوا کہ علاقائی ٹرانسپورٹ بیجنگ کی پی ایم 2.5 آلودگی میں 57 فیصد کی ذمہ دار ہے۔ مقامی ذرائع کے بقیہ 43 فیصد حصے میں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور رہائشی ذرائع آلودگی کے سب سے بڑے عوامل رہے، جو ایک بڑے عالمی شہر کی نمایاں خصوصیت ہے۔
نگرانی کے نتائج نے آلودگی پر قابو پانے کے متعدد اقدامات کے لئے سائنسی معاونت فراہم کی ہے۔ مثال کے طور پر بیجنگ نے ٹرانسپورٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے کے لئے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو فروغ دیا ہے اور گرد و غبار کے اخراج پر قابو پانے کے لئے جدید تکنیکیں، جن میں ہوا سے سہارا دینے والے جھلی نما ڈھانچے شامل ہیں، اختیار کی ہیں۔ اسی دوران کوئلے کے جلنے سے ہونے والی آلودگی، جو کبھی ایک بڑا عنصر تھی، تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اب اسے آلودگی کے اہم ذرائع میں شمار نہیں کیا جاتا۔ یہ کوئلے کے استعمال میں کمی، صاف توانائی کے فروغ اور شدید آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی جدید کاری کے لئے ملک گیر کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
چونکہ پی ایم 2.5 کی سطح اب نسبتاً کم ہے، اس لئے فضائی معیار میں مزید بہتری زیادہ ہدفی اور سائنس پر مبنی طریقوں پر منحصر ہوگی۔


