چین کی روایتی موسیقی اور غیر مادی ثقافتی ورثہ بدھ کے روزمنعقد ہونے والے ’ 40ویں جراش ثقافت و فنون فیسٹیول‘ میں توجہ کا مرکز بن گیا۔یہ فیسٹیول مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے ثقافتی میلوں میں شمار ہوتا ہے۔
عمان میں قائم چین کے ثقافتی مرکز اور چین کے صوبہ ہائی نان کے محکمہ سیاحت، ثقافت، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور کھیل کے اشتراک سے تشکیل دئیے گئے چینی فنکاروں کے وفد نے جراش کے قدیم رومی ہپوڈروم میں لوک موسیقی کی محفل سجائی۔
اس پروگرام میں ارہو، بانسری، سُونا اور پیپا جیسے روایتی چینی سازوں کی دھنیں پیش کی گئیں جبکہ ناک سے بانسری بجانے اور پتوں پر موسیقی بجانے جیسے غیر مادی ثقافتی ورثے کے فنون کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (عربی): عبد الرحمن العطوم، سائٹ آرگنائزر، جراش فیسٹیول
’’یہ دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں کا ایک خوبصورت سنگم ہے اور جیسا کہ آج ہم نے دیکھا ہے کہ چینی فنکاروں کے گروپ نے نہایت تخلیقی انداز میں اپنی پرفارمنس پیش کی اور اردن کے عوام کی حیثیت سے ہم ایک نئے ثقافتی تجربے سے آشنا ہوئے۔ آج ہم نے جو کچھ دیکھا وہ واقعی بہت خوبصورت تھا۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (عربی): سیف بنی علی، شریک مہمان، فیسٹیول
’’میں چینی فنکاروں کی پرفارمنس سے بھرپور لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ جراش ثقافت و فنون فیسٹیول میں دنیا بھر سے مہمان آتے ہیں۔ یہاں ہم لطف بھی اٹھاتے ہیں اور نئی ثقافتوں کے بارے میں آگاہی بھی حاصل کرتے ہیں۔ ہم چینی فنکاروں کی پرفارمنس، پُرسکون موسیقی اور دلکش دھنوں سے بے حد متاثر ہوئے ہیں ۔‘‘
فیسٹیول کے بین الاقوامی ثقافتی حصے میں منعقد کی گئی ایک نمائش میں ہائی نان کے غیر مادی ثقافتی ورثے کو بھی پیش کیا گیا جس میں ناریل کے خول پر نقش و نگاری، گھاس سے بنائی، کولاج آرٹ اور پتھر پر نقوش منتقل کرنے کی روایتی تکنیک شامل تھیں۔
جراش فیسٹیول کا آغاز سال 1981 میں ہوا۔ یہ ہر سال دنیا بھر کے فنکاروں کو قدیم رومی شہر جراش میں یکجا کرتا ہے تاکہ ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا جا سکے۔
عمان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


