واشنگٹن (لارڈ میڈیا): صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو بڑی امریکی آئل کمپنیوں، ایگزون موبل اور شیورون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلند قیمتوں کے باعث حد سے زیادہ منافع کما رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ کمپنیاں عوام کو منافع واپس کریں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ کے حوالے سے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی بصیرت کے بغیر تیل کی صنعت اور ملک تباہ ہو سکتے تھے۔ انہوں نے شیورون کو وینزویلا سے نکالے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہونے پر تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ دوسری جانب امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی ترجمان نے بیان میں کہا کہ ایندھن کی بلند قیمتیں عالمی رسد، طلب اور بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہیں۔
شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے اپنے ملازمین کو نصف ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر بونس دینے کا اعلان کیا ہے، جو کہ ان کی غیر معمولی آپریشنل کامیابیوں کے صلے میں ہے۔
امریکا میں نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے پیش نظر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرہ بن چکی ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود، پمپوں پر صارفین کو فوری فائدہ نہیں پہنچ رہا۔


