پوڈگوریتسا (شِنہوا) مونٹی نیگرو کے سابق صدر فلپ وویانووچ نے کہا ہے کہ مونٹی نیگرو اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد گزرنے والی دو دہائیاں ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے، مخلصانہ تعاون، باہمی اعتماد، باہمی معاونت اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی روایت سے عبارت رہی ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں مونٹی نیگرو کے دارالحکومت پوڈگوریتسا میں شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی تزویراتی رہنمائی اور مشترکہ کوششوں کے باعث مختلف شعبوں میں عملی تعاون نے نمایاں نتائج دیئے ہیں جبکہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران مونٹی نیگرو اور چین نے باہمی احترام، مساوات اور اعتماد پر مبنی گہری دوستی قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس تاریخ کا گواہ بھی ہوں اور اس کا حصہ بھی رہاہوں۔
وویانووچ نے کہا کہ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں پر کاربند رہا ہے، جس کے باعث اسے عالمی برادری کی وسیع پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مونٹی نیگرو میں ہم عالمی اقدار کے فروغ کے لئے چین کے عزم کا بے حد احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بین الاقوامی عوامی مفاد کے عظیم ترین منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے تحت تعاون نے متعلقہ خطوں میں بنیادی شہری سہولتوں اور عوامی معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سابق صدر نے کہا کہ چین کے تعاون سے تعمیر کی گئی بنیادی شہری سہولتوں کے منصوبے مونٹی نیگرو کی قومی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی شہری سہولتوں میں تعاون کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تبادلے بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں، مونٹی نیگرو میں چینی زبان کی تعلیم مقبول ہو رہی ہے اور تعلیم و تبادلہ پروگراموں کے تحت چین جانے والے طلبہ کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے شہر وین چھانگ میں واقع چھنگ لان بندرگاہ کا فضائی منظر-(شِنہوا)
چین کے اپنے دوروں کو یاد کرتے ہوئے فلپ وویانووچ نے کہا کہ ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ نے ان پر خاص طور پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ معیار کی بندرگاہی سہولیات رکھنے والا مونٹی نیگرو، صوبہ ہائی نان کے ترقیاتی تجربات سے قیمتی رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مونٹی نیگرو کے لئے اس تجربے سے استفادہ کرنا ایک بہترین موقع ہونا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔
وویانووچ نے کہا کہ چین کی عظمت صرف اس کے وسیع رقبے اور بڑی آبادی میں نہیں بلکہ اس کی کشادہ دلی اور شمولیت پسند رویے میں بھی ہے جہاں تمام ممالک کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔ چین کے ساتھ ہمارے اقتصادی تعاون میں مونٹی نیگرو کو ہمیشہ ایک مساوی شراکت دار سمجھا گیا ہے۔
انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ مونٹی نیگرو اور چین مساوات اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر تعلیم، سائنس، ثقافت اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید فروغ دیتے رہیں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے اور دیرپا خوشحالی پر مبنی مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔


