ہومتازہ ترینامریکی افواج کے ایران پر نئے حملے، خطے میں جاری تنازع مزید...

امریکی افواج کے ایران پر نئے حملے، خطے میں جاری تنازع مزید پھیل گیا

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی افواج نے بدھ کی شب تہران کے حالیہ حملوں کے جواب میں ایران پر نئے حملے کئے ہیں جس کے بعد خطے میں جاری تنازع مزید پھیل گیا۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کی افواج نے بدھ کی رات مشرقی وقت کے مطابق رات 10 بجے (جمعرات کو 0200 جی ایم ٹی) ایران کی جانب سے ایک روز قبل کئے گئے مبینہ میزائل حملوں کی کوشش کے جواب میں شدید فضائی حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا جن میں فوجی کمانڈ سنٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات شامل تھے۔

اس سے قبل بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو مرتبہ کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ مصر کی ایک بندرگاہ پر موجود امریکی ملکیتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز کو اسی روز ایک مبینہ ڈرون حملے میں آگ لگا دی گئی۔

وال سٹریٹ جرنل نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امریکہ کی تازہ کارروائی حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع نوعیت کی تھی، جس میں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار اور ملاقات سے واقف ایک اور ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بھی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے متعلق صورتحال سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مرحلے پر اسے امریکی فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جنہوں نے سعودی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے اور بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں پر کئی حملے بھی کئے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ نے کہا کہ اس نے منگل کے روز امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی ایک مبینہ ایرانی میزائل کوشش کو ناکام بنایا تھا اور بعد ازاں سعودی عرب کے ساتھ مل کر ہمسایہ ملک عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ حملے بھی کئے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں