لان ژو (شنہوا) چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے ماتحت لان ژو ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایل وی آر آئی) میں زیر تعلیم ڈاکٹریٹ کے 29 سالہ پاکستانی طالب علم محمد کاشف عبید کے لئے اپنے وطن سے چین کے شمال مغربی علاقوں کے تجربہ گاہوں تک کا سفر زندگی میں دریافت، رہنمائی اور نمایاں کامیابیوں سے بھرپور ایک تجربہ ثابت ہوا ہے۔
چینی پروفیسرز کی نگرانی میں کاشف چیچڑوں اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول پر تحقیق کر رہے ہیں، جو مویشیوں کی صحت کے لئے انتہائی اہم شعبہ ہے۔ سائنسی تحقیق کے میدان میں مضبوط ریکارڈ کے ساتھ وہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی سائنس و ٹیکنالوجی کے تعاون کے ایک نوجوان سفیر بن چکے ہیں۔
کاشف نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’میں نے پاکستان میں طفیلیوں کے شعبے میں بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسی دوران ایل وی آر آئی سے پڑھنے والے ایک سینئر کے ذریعے مجھے چین کے اعلیٰ تحقیقی اداروں، وہاں سازگار تعلیمی ماحول اور چینی حکومت کے وظائف کا علم ہوا جس کے بعد چین میں تحقیق کرنا میرا خواب بن گیا۔‘‘
کاشف نے 2023 میں چائنہ سکالرشپ کونسل سے وظیفہ ملنے پر ایل وی آر آئی کی انوویٹو ویکٹرز اینڈ ویکٹر بورن ڈیزیزز کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی جہاں انہوں نے پروفیسر گوان گوئی چھوان اور ایسوسی ایٹ پروفیسر رین چھیاؤ یون کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کا کام شروع کیا۔

ڈاکٹریٹ کے پاکستانی طالب علم محمد کاشف عبید اپنے پروفیسر کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
انہوں نے کہا کہ ’’میں بہت خوش قسمت ہوں کہ چین آیا اور مجھے بہترین اساتذہ کی سرپرستی ملی۔ یہاں تحقیق کا ماحول اور سہولیات بالکل ویسی ہیں جیسا میں نے خواب دیکھا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اپنے مطالعہ اور تحقیق کے ہر لمحے کی قدر کرتے ہیں اور امید ہے وہ ایسے نتائج حاصل کریں گے جن کا عملی طور پر کھیتوں اور فارمز میں اطلاق ہو سکے۔
کاشف کے مطابق چیچڑ پاکستان میں گائے اور بھیڑ بکریوں کی صنعت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد معلوم اقسام کے ساتھ چیچڑ ہر سال عالمی سطح پر مویشیوں کے شعبے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور دیگر ممالک میں مختلف چیچڑ کش ادویات دستیاب ہیں لیکن عملی طور پر ان کی افادیت محدود ہے اور ادویات کے خلاف بڑھتی ہوئی مدافعت کے مسائل صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔
کاشف اپنے چینی سپروائزرز کے تعاون سے پاکستان اور دیگر ممالک میں چیچڑوں کی سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ریپی سیفلس مائیکرو پلس کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک موثر حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مقامی آبادی پر ان کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ان کی تحقیق کا مرکز چیچڑ کش ادویات کی ناکامی کے پیچھے موجود مالیکیولر طریقہ کار کو سمجھنا ہے جبکہ کیمیائی ویٹرنری ادویات کے زہریلے اثرات کم کرنے کے لئے پودوں سے حاصل کردہ متبادل کی تلاش بھی شامل ہے۔
کاشف کی محنت رنگ لائی اور صرف چار سالوں میں ان کے 21 اعلیٰ سطح کے سائنسی مقالے شائع ہوئے۔ ان میں سے 7 بطور مصنف اول اور 14 بطور معاون مصنف عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایس سی آئی جریدوں میں شائع ہوئے ہیں۔

ڈاکٹریٹ کے پاکستانی طالب علم محمد کاشف عبید اور ان کی ساتھی ایک تجربہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
تعلیمی کامیابیوں پر انہیں متعدد اعزازات بھی ملے۔ 2025 میں انہوں نے 6 ہزار یوآن (تقریباً 830 امریکی ڈالر) مالیت کی ایک انٹرپرائز سکالرشپ حاصل کی۔ جون 2026 میں سی اے اے ایس گریجویٹ سکول اور سی ایس سی کی میزبانی میں منعقدہ زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی انوویشن پر تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ ڈاکٹریٹ اکیڈمک سیمپوزیم میں انہیں اکیڈمک سٹار قرار دیا گیا۔
ایل وی آر آئی کے سائنس اور ٹیکنالوجی انتظامی دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر بائی شنگ وین کے مطابق حالیہ برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں وسعت کے ساتھ ہی زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور تبادلوں میں تیزی سے اضافہ اور مزید گہرائی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے زیراہتمام چلنے والے وظائف پروگراموں کی بدولت حالیہ سالوں کے دوران انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
بائی نے مزید کہا کہ ہم ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی منظم کرتے ہیں جن میں عجائب گھروں کے دورے، باسکٹ بال، بیڈمنٹن، چائے کی محفلیں اور موسیقی کے پروگرام شامل ہیں تاکہ انہیں چینی ثقافت بہتر طور پر سمجھنے اور یہاں اپنے گھر جیسا محسوس کرنے میں مدد مل سکے۔

ڈاکٹریٹ کے پاکستانی طالب علم محمد کاشف عبید اپنے تجربے کا ڈیٹا ریکارڈ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
کاشف مستقبل میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ایل وی آر آئی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تحقیق جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ چیچڑوں میں ادویات کے خلاف مدافعت کے میکانزم کی مزید تحقیق کر سکیں۔ پاکستان واپس لوٹنے کے بعد ان کا مقصد چین میں سیکھی گئی پیراسائٹولوجی تکنیکوں اور ویٹرنری ادویات کی تیاری کے طریقوں کو مقامی فارمنگ کے حالات کے مطابق چیچڑوں کی روک تھام کے حل تیار کرنے کے لئے استعمال کرنا ہے۔ وہ ایل وی آر آئی کے ساتھ طویل المدتی تعلیمی تبادلے برقرار رکھنے اور چین اور پاکستان کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مدد کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔


