راولپنڈی (لارڈ میڈیا): پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکمران اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ لاہور یا کشمور نہیں بنے گا۔ اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بہتری کی کنجی ہے اور اگر ملاقاتیں شروع ہوئیں تو حالات بدل جائیں گے۔ نورین بی بی کے خلاف مقدمہ درج ہونے پر انہوں نے کہا کہ گھریلو باتوں کو ہرزہ سرائی نہیں کہا جا سکتا اور اس وقت دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے بائیکاٹ کیا تھا اور ملک کی بہتری کے لیے فری اینڈ فئیر الیکشن ضروری ہیں۔ نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور عوامی املاک کا تحفظ کریں اور حکومت بھی امن و امان برقرار رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت ٹی ٹی پی کو سپورٹ نہیں کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ 5 اگست کو پشاور میں بڑا جلسہ ہوگا جس میں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور ریاست کے تینوں ستون ایک ہوچکے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ کشمیری عوام ہمارا انٹیگرل پارٹ ہیں اور کشمیر کی صورت حال گھمبیر ہے۔ مزید اشتعال انگیزی نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو عوام کے ساتھ بیٹھ کر مصالحت کرنی چاہیے۔ الیکشن آج ہو جائیں یا کل، زیادہ اہم کشمیر کاز اور لوگوں کی پاکستان سے محبت ہے۔


