ہوماہم ترینایس سی او ممالک میں عوامی ثقافتی تبادلے پائیدار امن کی بنیاد...

ایس سی او ممالک میں عوامی ثقافتی تبادلے پائیدار امن کی بنیاد ہیں، صدر لارڈ میڈیا نیٹ ورک

بشکیک: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ 2026 کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر محمد اکمل خان نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت مشترکہ مستقبل صرف حکومتیں نہیں بلکہ عوامی شمولیت سے ہی ممکن ہو پائے گا، جبکہ ثقافت اور تہذیبی تبادلے ہی خطے میں اعتماد، امن اور باہمی مفاہمت کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز چینی صدر شی جن پنگ کے اس اقتباس سے کیا کہ "شنگھائی اسپرٹ ہمارا مشترکہ اثاثہ ہے اور ایس سی او ہمارا مشترکہ گھر ہے، ہمیں اسی جذبے کی رہنمائی میں مشترکہ مستقبل کی حامل برادری تشکیل دینی چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ یہ صرف سفارتی وژن نہیں بلکہ عوام کو قریب لانے کا عملی راستہ بھی ہے۔

محمد اکمل خان نے کہا کہ اگرچہ ایس سی او کو عموماً سلامتی، تجارت، رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن ان تمام شعبوں کی کامیابی کے لیے تمام ممالک کے لوگوں کے درمیان اعتماد ناگزیر ہے، اور یہ اعتماد صرف ثقافتی روابط سے ہی مضبوط ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارا مسئلہ ثقافت اقدار کی کمی نہیں بلکہ ثقافتی تبادلوں کی کمی ہے، اور ایس سی او اس خلا کو پُر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ایس سی او دنیا کی 3.3 ارب سے زائد آبادی، قدیم تہذیبوں، سینکڑوں قومیتوں، ہزاروں زبانوں اور بے مثال ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتی ہے، جسے تنظیم کی سب سے بڑی اسٹریٹجک طاقت کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے رکن ممالک کے درمیان طلبہ کے تبادلوں کے پروگرام، زبانوں اور ادبی تخلیقات کے تراجم، میڈیا تعاون، مشترکہ دستاویزی فلموں، پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل منصوبوں کے آغاز کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ایک دوسرے کے نیوز رومز میں کام کرنے کے مواقع ملنے چاہییں تاکہ خطے کے عوام ایک دوسرے کو صرف سیاسی تنازعات کے ذریعے نہیں بلکہ ثقافت، جدت، تاریخ اور روزمرہ زندگی کے تناظر میں بھی جان سکیں۔

بشکیک میں موجود نمائندہ لارڈ میڈیا نیٹ ورک کے مطابق محمد اکمل خان نے کہا، "میڈیا صرف واقعات رپورٹ نہیں کرتا بلکہ اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ تھنک ٹینکس کو بھی جغرافیائی سیاست کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے، مصنوعی ذہانت، زبانوں کے تحفظ اور عوامی روابط پر تحقیق کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں جو معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔

اختتام پر انہوں نے کہا کہ "انفراسٹرکچر شہروں کو جوڑتا ہے، تجارت منڈیوں کو جوڑتی ہے، لیکن ثقافت دلوں کو جوڑتی ہے۔ اگر ہم صرف سڑکوں اور تجارتی راہداریوں میں سرمایہ کاری کریں گے تو سامان منتقل ہوگا، لیکن اگر ثقافت میں سرمایہ کاری کریں گے تو خیالات منتقل ہوں گے، اعتماد بڑھے گا اور پائیدار امن قائم ہوگا۔”

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ 2026 کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہو رہا ہے۔ سمٹ کا مرکزی موضوع "شنگھائی اسپرٹ کے نئے دور کی اہمیت: مشترکہ اقدار سے عملی تعاون تک” ہے، جبکہ مختلف پلینری اجلاسوں میں علاقائی تعاون، ثقافتی و تہذیبی روابط، پائیدار ترقی، مصنوعی ذہانت، ذمہ دار صحافت اور میڈیا و تھنک ٹینکس کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں