کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ کے کالج اساتذہ نے 11 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس یا سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے کالج اساتذہ اور ملازمین میں شدید بددلی پائی جاتی ہے۔
سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں اساتذہ نے ترقیوں میں تعطل پر افسوس کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے بتایا کہ گریڈ 18، 19 اور 20 میں سیکڑوں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود ترقیوں میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
سپلا کے مطابق 14 سال گزرنے کے باوجود لیکچررز کو اگلے گریڈ میں ترقی نہیں دی گئی ہے، جبکہ 14 جولائی کو ہونے والی ڈی پی سی (DPC) کو بھی زیر التواء رکھا گیا ہے۔ اساتذہ نے سینیارٹی لسٹوں کا بہانہ بنا کر ترقیوں میں تاخیر کی مذمت کی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ جائز حقوق کی فراہمی تک احتجاج جاری رہے گا۔ 3 اگست سے مختلف ریجنز میں مظاہرے کیے جائیں گے اور اساتذہ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر تدریسی عمل جاری رکھیں گے۔
اساتذہ نے اعلان کیا کہ مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں 11 اگست کو دھرنے کا آغاز ہوگا، جس میں سول سوسائٹی اور ملازمین کی تنظیموں کو بھی دعوت دی جائے گی۔


