شہر (لارڈ میڈیا): نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر 190 سال تک ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنا ممکن نہیں اور ایک خاص عمر تک ہی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ 194 سال انسانی جسم کی آخری حد ہے اور اتنے عرصے تک ہی جسم خود کو مستحکم رکھ سکتا ہے۔
جرنل نیچر میں شائع تحقیق کے مطابق، جینز میں وقت کے ساتھ آنے والی تنزلی اور تبدیلیوں کو روکنا ممکن نہیں، چہل قدمی کو روزانہ کے معمولات میں شامل کرکے امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق میں جینز اور ڈی این اے میں آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیشتر تبدیلیاں بے ضرر ہوتی ہیں مگر بعض تبدیلیوں سے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ماحولیاتی عناصر جیسے وائرسز، مخصوص کیمیکلز یا سورج کی روشنی کے نتیجے میں ہوسکتی ہیں۔
محققین نے ایک ماڈل تیار کیا جس میں بڑھاپے کے ریورس ایبل اعشاریوں کو شامل کیا گیا اور جینیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ انسان زیادہ سے زیادہ کتنے سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جلد اور جگر کے خلیات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور جینیاتی تبدیلیوں کو ختم کر دیتے ہیں، مگر دل اور دماغ کے خلیات اکثر تبدیل نہیں ہوتے۔ محققین کے مطابق جینیاتی تبدیلیاں نقصان دہ نہیں ہوتیں مگر ان کی تعداد زیادہ ہونے سے زندگی کی مدت گھٹ جاتی ہے۔


