لندن (لارڈ میڈیا): بالی وڈ سپر اسٹار عامر خان نے بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول میں اپنے فلمی کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں مشکلات کا انکشاف کیا ہے۔ عامر خان نے بتایا کہ 1988 میں فلم ‘قیامت سے قیامت تک’ سے کیرئیر کا آغاز کیا، جس نے انہیں راتوں رات اسٹار بنا دیا، لیکن اس وقت کے حالات بالکل مختلف تھے۔
عامر خان نے کہا کہ بڑے فلم سازوں کی جانب سے سنجیدگی سے لیے جانے کے لیے ‘قیامت سے قیامت تک’ کی کامیابی کافی نہیں تھی۔ ان کے کریڈٹ پر ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن جن ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے، ان میں سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔
اداکار نے بتایا کہ وہ کامیاب تو تھے، لیکن ان کے پاس وہ کام نہیں تھا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ 80 کی دہائی کے آخر میں ہندی اداکار بیک وقت درجنوں فلموں میں کام کر رہے تھے، جبکہ ان کے پاس اوسطاً 40 یا 50 فلمیں ہوتیں۔
عامر خان نے مزید کہا کہ انہوں نے اسکرپٹس کی بنیاد پر 8 سے 10 فلموں کا انتخاب کیا، جن میں سے زیادہ تر نئے ہدایت کاروں کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کی شخصیت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا اور کچھ ہی مہینوں میں انہیں احساس ہوگیا کہ یہ غلط فیصلہ تھا، لیکن انہوں نے اپنے وعدے پورے کیے۔
عامر خان نے کہا کہ فلمیں ریلیز ہوئیں اور ناکام ہوتی گئیں، جس کے بعد ان پر ‘ون فلم ونڈر’ کا لیبل لگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر نئی فلم کے ساتھ وہ مزید مایوس ہوتے گئے اور کام سے واپس آکر روتے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے خوش نہیں تھے۔


