بیجنگ (شِنہوا) بیجنگ نمبر 13 سیکنڈری سکول میں ریاضی کی کلاس شروع ہونے سے پہلے ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ’’ایجنٹ‘‘ طلبہ کے کئی ہفتوں کے تعلیمی اعداد و شمار کا تجزیہ کر چکا ہوتا ہے جس میں ہر طالب علم کی کلاس میں شرکت، ہوم ورک اور مختصر امتحانات کے نتائج شامل ہوتے ہیں۔
چند ہی منٹوں میں یہ نظام مختلف تعلیمی سطح کے طلبہ کے لئے ان کی ضرورت کے مطابق سوالات کی ترتیب اور کلاس کے بعد کئے جانے والے ذاتی نوعیت کے اسائنمنٹس تیار کر دیتا ہے جبکہ اساتذہ اے آئی سے تیار کردہ ان مواد کا جائزہ لے کر اسے بہتر بناتے ہیں اور پھر استعمال میں لاتے ہیں۔
یہ منظر دنیا کے سب سے بڑے بنیادی تعلیمی نظام میں جاری ایک وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں 22 کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ چین کئی دہائیوں تک تعلیم تک رسائی بڑھانے اور علاقائی تفاوت کم کرنے کے بعد اب بنیادی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور ہر طالب علم کی انفرادی ضروریات پوری کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہا ہے۔
لازمی تعلیم میں تقریباً مکمل داخلہ یقینی بنانے کے بعد چین کی توجہ اب صرف ہر بچے کو سکول تک پہنچانے سے ہٹ کر ہر بچے کو بہتر اور زیادہ انفرادی نوعیت کی تعلیم فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
ملک کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026 تا 2030) میں تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے اور تعلیم کے ہر مرحلے، ہر جزو اور ہر منظرنامے میں اس ٹیکنالوجی کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اپریل میں وزارت تعلیم نے ’’اے آئی پلس ایجوکیشن‘‘ ایکشن پلان کا آغاز کیا، جس کا مقصد پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں اے آئی تعلیم کو فروغ دینا، بین الشعبہ جاتی تدریس کی حوصلہ افزائی کرنا اور کلاس رومز میں اے آئی کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔
یہ پالیسیاں اب ملک بھر میں عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔
چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر وین ژو میں طلبہ کے لئے اے آئی خواندگی کی کلاسیں متعارف کرائی گئی ہیں جہاں طلبہ نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے ڈیجیٹل ورچوئل نمائندے تیار کئے جو مقامی بولی میں شہر کی ثقافت کا تعارف پیش کرتے ہیں۔
بیجنگ میں بیجنگ نمبر 13 سیکنڈری سکول کا اے آئی ایجنٹ طلبہ کے تعلیمی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے نہ صرف پوری جماعت میں پائی جانے والی مشترکہ تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ہر طالب علم کی انفرادی خوبیوں اور کمزوریوں کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اساتذہ کی تدریس کو مزید موثر بنانے کے لئے نئی تجاویز بھی فراہم کرتا ہے۔
مثال کے طور پر سکول کی استاد ژانگ می یا نے اے آئی نظام کے ساتھ مل کر شہریوں کے حقوق اور ذمہ داریوں پر سبق پڑھانے سے پہلے اسباق کو طلبہ کی روزمرہ زندگی سے جوڑنے کے لئے سمارٹ ہوم پرائیویسی تنازعات اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی خبروں کے پھیلاؤ جیسے موضوعات پر مطالعاتی مثالیں تیار کیں۔
یہ ٹیکنالوجی معیاری تعلیم اور انفرادی نوعیت کی تعلیم کے درمیان طویل عرصے سے موجود توازن کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔


