کراچی (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم گوہر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ اور فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے، جس میں سر اور دھڑ الگ الگ مقامات سے برآمد ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق مجرم مقتولہ کے والد کا دوست تھا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالت کا کام جذباتی ہونا نہیں بلکہ قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے اور اگر اس مقدمے میں بھی سزائے موت نہ ہو تو پھر کس مقدمے میں ہوگی۔
یہ مقدمہ 28 فروری 2005 کو درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا، اور اب سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے بھی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔


