ہومتازہ ترینچین کے ساتھ مصنوعی ذہانت میں شراکت داری افریقہ کی سماجی و...

چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت میں شراکت داری افریقہ کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، عہدیدار اقوام متحدہ

عدیس ابابا(شِنہوا) اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ(یونیکا) کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے شعبے میں چین اور افریقہ کے درمیان تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے بہتر انضمام اور دوطرفہ اسٹریٹجک فریم ورک کے ذریعے افریقہ کے اہم شعبوں میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم مواقع فراہم کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ کے ٹیکنالوجی، اختراع، رابطہ سازی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے کے ڈائریکٹر رابرٹ تاما لیسنگے نے شِنہوا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین اور افریقہ کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری براعظم میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل خلیج کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

2026 عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور عالمی اے آئی نظم و نسق پر اعلیٰ سطح اجلاس 17 سے 20 جولائی تک چین کے شہر شنگھائی میں جاری ہے جہاں دنیا بھر سے حکومتی عہدیدار، صنعت کے رہنما اور ماہرین تعلیم شریک ہیں۔

لیسنگے کے مطابق، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر عالمی سطح پر مکالمے اور تعاون کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں جاری یہ کانفرنس افریقی نقطۂ نظر سے اے آئی نظم و نسق، ڈیٹا کی ملکیت اور شفافیت جیسے اہم موضوعات پر عالمی گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے ایک موزوں پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

ڈائریکٹر نے بتایا کہ افریقی ممالک مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی اقدامات کو افریقی یونین کے 50 سالہ ترقیاتی منصوبے ’’ایجنڈا 2063‘‘ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

لیسنگے نے کہا کہ یہ عالمی اجلاس افریقہ کو اپنی ترقی کی منفرد کہانی دنیا کے سامنے پیش کرنے اور تحقیق و ترقی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں موجود کمی کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

لیسنگے نے شِنہوا کو بتایا ’’چین نے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین تحقیق و ترقی پر بھی وسائل خرچ کر رہا ہے اور سائنس دانوں کو نئی اختراعات کی ترغیب دے رہا ہے۔ افریقی ممالک چین کے ساتھ شراکت داری کر سکتے ہیں اور کئی ممالک پہلے ہی ایسا کر رہے ہیں تاکہ چین کے تجربات سے سیکھ سکیں۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں