ہومتازہ ترینچینی ڈاکٹرز ریڑھ کی ہڈی کی جدید سرجری کے ذریعے تنزانیہ کی...

چینی ڈاکٹرز ریڑھ کی ہڈی کی جدید سرجری کے ذریعے تنزانیہ کی خاتون کے لئے امید کی کرن بن گئے

دارالسلام (شِنہوا) تنزانیہ کے جنوب مغربی شہر ایمبیا سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ کاروباری خاتون اور 2 بچوں کی ماں ماٹلڈا چیسوگورو کئی برسوں تک ایسے درد میں مبتلا رہیں جس نے آہستہ آہستہ ان کی خودمختاری سلب کر دی، ان کے کام کو متاثر کیا اور یہاں تک کہ معمولی حرکت بھی ان کے لئے ناقابل برداشت بنا دی۔

چیسو گورو کی آزمائش کا آغاز ایک سال سے زائد عرصہ قبل اس وقت ہوا جب انہوں نے دارالسلام کے ایک طبی مرکز میں کمر کے نچلے حصے کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ کم کرنے اور اندرونی فکسیشن کی سرجری کروائی۔ ابتدا میں انہیں امید تھی کہ اس سے انہیں آرام ملے گا، لیکن اس کے بجائے 6 ماہ بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

ان کی کمر کے نچلے حصے میں شدید درد دوبارہ شروع ہوگیا، جس کے ساتھ دونوں ٹانگوں کا سن ہونا اور مسلسل پھیلنے والا درد بھی شامل تھا۔انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ "میں خود سے چل بھی نہیں سکتی تھی۔ میری کمر اور ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا۔”

آج وہ اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی راہ پر گامزن ہیں، جس کا سہرا تنزانیہ میں خدمات انجام دینے والی 28ویں چینی طبی ٹیم کے ارکان کی جانب سے ایمبیا زونل ریفرل ہسپتال میں کی جانے والی ایک پیچیدہ سرجری کو جاتا ہے۔

ان کی صحت یابی ایک اہم طبی سنگ میل کے بعد ممکن ہوئی۔ 15 جون کو ریڑھ کی ہڈی کے چینی ماہر سرجن ژو چھاؤ اور ان کی ٹیم نے اس ہسپتال میں پہلی مرتبہ لمبر ریویژن سرجری کامیابی سے انجام دی۔

جب ژو چھاؤ نے پہلی بار چیسوگورو کا معائنہ کیا تو انہیں فوری طور پر اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ کیس ہے۔ سابقہ سرجری کے باعث اعصاب کے گرد داغ دار بافتیں اور شدید چپکاؤ پیدا ہو چکا تھا۔ ریڑھ کی ہڈی کو پہنچنے والے نقصان کے آثار ممکنہ دائمی انفیکشن کی طرف بھی اشارہ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ہڈیوں کی کمزوری اور پہلے لگائے گئے پیچوں کے ڈھیلے ہونے سے واضح تھا کہ نئی فکسیشن کرنا تکنیکی اعتبار سے انتہائی مشکل ہوگا۔

ریویژن اسپائن سرجری آرتھوپیڈکس کے شعبے میں سب سے پیچیدہ آپریشنز میں شمار ہوتی ہے اور چیسوگورو کے معاملے میں ہسپتال کی محدود طبی سہولیات نے خطرات کو مزید بڑھا دیا تھا۔

آپریشن کے دوران پیچ لگانے کی درست رہنمائی کے لئے استعمال ہونے والا سی آرم ایکسرے امیجنگ سسٹم کم معیار کی تصاویر فراہم کر رہا تھا، جبکہ الیکٹرو سرجیکل یونٹس سمیت دیگر جراحی آلات کئی برسوں سے مسلسل استعمال کے باعث بوسیدہ ہو چکے تھے اور ان کی کارکردگی بھی یکساں نہیں رہی تھی۔

ان محدود وسائل کے باوجود ژو چھاؤ نے ایک ایسا جراحی منصوبہ تیار کیا جس میں حفاظت اور عملی امکانات کے درمیان توازن برقرار رکھا گیا۔

آپریشن کے روز انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہلے سے لگائے گئے غیر مستحکم پیچ نہایت احتیاط سے نکالے، پھر متاثرہ مہروں کو مضبوط بنانے کے لئے بون گرافٹنگ کی اور نئی فکسیشن کے لئے راستے تیار کئے۔

سرجری کا سب سے نازک مرحلہ داغ دار بافتوں کو اعصابی ڈھانچے سے الگ کرنا تھا، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ یہ انتہائی صبر، مہارت اور باریک بینی کا متقاضی عمل تھا۔ محدود امیجنگ سہولیات اور بعض اوقات غیر معیاری آلات کے باعث ٹیم نے بڑی حد تک اپنے تجربے اور انسانی جسم کی ساخت سے متعلق گہرے علم پر انحصار کیا۔

ٹیم نے مرحلہ وار اعصاب پر دباؤ ختم کیا، ریڑھ کی ہڈی کو دوبارہ مستحکم کیا اور نئے پیڈیکل اسکروز کامیابی سے نصب کئے۔ تمام مشکلات کے باوجود آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔

اس کے بعد کے دنوں میں چیسوگورو نے اپنی صحت میں واضح بہتری محسوس کرنا شروع کر دی۔ طبی ماہرین کی نگرانی میں انہوں نے ہلکی جسمانی ورزشیں بھی شروع کر دی ہیں، جو دوبارہ چلنے پھرنے کی صلاحیت بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرا جسم بہتر ہو رہا ہے۔ انہوں نے صرف میرا علاج ہی نہیں کیا بلکہ مجھے ایک نئی امید بھی دی ہے۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں