تیانجن (شِنہوا) چینی محققین نے دنیا کا پہلا حیاتیاتی اعصابی نظام کی نقل کرنے والا آلہ تیار کیا ہے جو سماعت سے محروم افراد کے دماغ کو آواز کو صرف ’’سننے‘‘ کے بجائے اسے ’’سمجھنے‘‘ کے قابل بناتا ہے۔
یہ آلہ چین کے شمالی شہر تیانجن میں واقع نان کائی یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے۔ یہ سماعت کی بحالی کے لئے برقی متبادل اور اعصابی مرمت کا ایک نیا طریقہ فراہم کرتا ہے جو روایتی کوکلیئر امپلانٹس سے آگے کی پیش رفت ہے۔
یونیورسٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق الیکٹرانک اور آپٹیکل انجینئرنگ کالج میں اس تحقیق کی قیادت کرنے والے شو وین تاؤ نے کہا کہ ’’اس وقت کوکلیئر امپلانٹس صرف ‘سننے’ کے مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مقررہ گھڑی سے چلنے والے طریقہ کار اور محدود تعداد میں الیکٹروڈز کی وجہ سے پیچیدہ صوتی ماحول میں وقت کی درستگی اور بول کو سمجھنے کی صلاحیت کے لحاظ سے یہ قدرتی سماعتی نظام سے کافی پیچھے ہیں۔‘‘
شو وین تاؤ نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد صرف نظام کو ‘سننے’ کے قابل بنانا نہیں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں ‘سمجھنے’ کے قابل بنانا ہے، یعنی قدرتی اعصاب کی طرح اہم سمعی معلومات کا انتخاب، تجزیہ اور ترسیل کرنا۔” ان کے مطابق یہ نیا آلہ سماعت کی بحالی میں "ادراک کی واپسی” سے "عملی صلاحیت کی دوبارہ تعمیر” کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
"سماعت کی بحالی کے لئے ایک مصنوعی عصبی ساختی رابطہ” کے عنوان سے یہ تحقیق یکم جولائی کو نیچر میٹریلز جریدے میں آن لائن شائع ہوئی۔
تحقیق کے مطابق سماعت صرف کانوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ سماعتی اعصاب پر بھی انحصار کرتی ہے جو ایک "تیز رفتار شاہراہ” کی طرح آواز کے اشارے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ اعصابی راستے کو نقصان پہنچنے کے باعث ہونے والی سماعت کی کمی دنیا کی تقریباً 3 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے۔
روایتی کوکلیئر امپلانٹس آواز کو برقی اشاروں میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ان کا انحصار اب بھی مریض کے باقی ماندہ سماعتی اعصاب پر ہوتا ہے تاکہ اشاروں کی ترسیل کا آخری مرحلہ مکمل ہو سکے۔
نئے آلے کو ’’اعصابی ساختی رابطہ‘‘ قرار دیا گیا ہے جو حیاتیاتی سماعتی اعصاب کے قدرتی معلوماتی عمل کی نقل کرتا ہے۔ یہ آواز حاصل کرنے، اعصابی کوڈنگ، معنوی تجزیے اور حیاتیاتی برقی اخراج کو ایک مکمل مصنوعی عصبی نظام میں یکجا کرتا ہے۔


