اسلام آباد (لارڈ میڈیا): قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے باوجود پی ٹی آئی کے کئی ارکان پارلیمنٹ اب بھی سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین قائمہ کمیٹی گاڑی کے علاوہ 320 لیٹر پیٹرول بھی حاصل کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے پاس 8 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ہے، جن کے چیئرمین کو ایک ڈرائیور، نائب قاصد اور پی اے فراہم کیا گیا ہے۔ محمد عاطف، جنید اکبر، خواجہ شیراز، اور عامر ڈوگر کو بطور چیئرمین مراعات دی گئی تھیں۔
پی ٹی آئی رکن ثنا اللہ مستی خیل آج سرکاری گاڑی میں خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچے۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے تو گاڑی کیوں واپس نہیں کی؟
ثناء اللہ مستی خیل نے جواب دیا کہ انہوں نے گاڑی واپس کر دی تھی لیکن اسپیکر نے گاڑی واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے، گاڑیاں واپس نہیں لی جا سکتیں۔
ثناء اللہ مستی خیل نے مزید کہا کہ وہ عمران خان کے احکامات مانتے ہیں۔ مراعات ان کے لئے معنی نہیں رکھتیں، وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔


