اسلام آباد (لارڈ میڈیا): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، جس میں پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا، مگر چیئرمین سمیت دیگر ارکان نے بل کی حمایت کی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو تقرریوں سمیت اہم فیصلوں کا اختیار ہونا چاہیے۔ چوہدری محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ معمولی معاملات کے لیے کابینہ اجلاس بلانا مناسب نہیں، اس لیے فوری فیصلوں کے لیے وزیراعظم کو بااختیار بنایا جانا چاہیے۔
اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ مشیر نجکاری ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ حکومت کو پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی فروخت سے 55 ارب روپے حاصل ہوں گے، جن میں سے 10 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں۔
مشیر نجکاری نے مزید بتایا کہ 30 جون 2025 تک پی آئی اے کے کل اثاثے 191.534 ارب روپے تھے جبکہ واجبات 182.430 ارب روپے تھے، جن میں ملازمین کی پنشن کے واجبات بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے سرمایہ کاروں کے پروفائل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔


