ہومتازہ ترینپنجاب میں گندم سپلائی پابندی سے آٹے کی قلت کا خدشہ

پنجاب میں گندم سپلائی پابندی سے آٹے کی قلت کا خدشہ

لاہور (لارڈ میڈیا): پنجاب حکومت نے گندم سپلائی کے اجازت نامے معطل کر دیے ہیں جس کے باعث اسلام آباد میں 45 فلار ملز کے بند ہونے اور آٹے کے بحران کا خدشہ ہے۔ ملک بھر کے کئی شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

فلار ملز ایسوسی ایشن نے گندم سپلائی پرمٹس کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اجازت نامے کی معطلی سے گندم کی بلیک مارکیٹنگ اور کرپشن کو فروغ ملے گا اور راولپنڈی کی فلار ملز بھی بند ہو سکتی ہیں۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے روزانہ 8 ہزار ٹن گندم کی سپلائی جاری تھی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ آٹے کے ممکنہ بحران کو روکا جا سکے اور سپلائی کے لیے آن لائن پورٹل تک رسائی بحال کی جائے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر گندم درآمد کرنے کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ بروقت انتظامات نہ ہونے کی صورت میں دسمبر تک آٹے کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چئیرمین پی ایف ایم اے عاصم رضا نے کہا کہ پنجاب بھر میں گندم کی قیمت 4,300 سے 4,500 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ راولپنڈی میں 15 کلو آٹے کی قیمت 2150 روپے ہو گئی ہے جبکہ فیصل آباد میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 2100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ ملتان میں 10 کلو آٹے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

حیدرآباد میں گندم کا سرکاری کوٹہ نہ ملنے کے باعث آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سکھر میں آٹا مل ریٹ 125 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 130 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں