ہومپاکستاناراضی معاوضہ صرف سرکاری ریٹ پر نہیں، مارکیٹ ویلیو بھی دیکھی جائے،...

اراضی معاوضہ صرف سرکاری ریٹ پر نہیں، مارکیٹ ویلیو بھی دیکھی جائے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) سپریم کورٹ آف پاکستان نے صوابی میں نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ زمین کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال اور مستقبل میں اس کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دائر تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔

صوابی اراضی معاوضہ کیس میں زمین مالکان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری معاوضہ ان کی زمین کی حقیقی مالیت سے کم ہے۔ ریفرنس کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے زمین مالکان کے حق میں معاوضے میں اضافہ کیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو، اس کے استعمال کی نوعیت، مستقبل میں ترقی کے امکانات اور مقام کی اہمیت کو بھی معاوضے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر زمین کے حصول میں تاخیر ہو جائے تو مہنگائی اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کو بھی معاوضے میں شامل کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو جائیداد کے تحفظ کا حق دیتا ہے، اس لیے ریاست کو ایسا معاوضہ ادا کرنا ہوگا جو قانونی اور منصفانہ ہو۔ عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے صوابی کے متاثرہ زمین مالکان کو بڑھا ہوا معاوضہ ملنے کی راہ ہموار کر دی۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں سرکاری منصوبوں کے لیے حاصل کی جانے والی اراضی کے معاوضے کے تعین میں ایک اہم قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں