کیف (لارڈ میڈیا): یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ شہر اب بھی یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ڈونیٹسک کے اس اہم شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں روسی دعوے کو ‘جھوٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر روس نے شہر پر قبضہ کر لیا ہوتا تو صدر پیوٹن کو وہاں آ کر مذاکرات کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔
یوکرین کی جنرل اسٹاف نے بھی واضح کیا ہے کہ کوستیانتینیوکا میں یوکرینی فوج دفاعی پوزیشنوں پر موجود ہے اور دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، کوستیانتینیوکا یوکرین کی دفاعی لائن کا حصہ ہے اور اس پر روسی قبضہ اسے شمال کی جانب مزید پیش قدمی کے لیے برتری دے سکتا ہے۔ روسی فوج نے کئی ماہ سے مختلف حصوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔


