تہران (لارڈ میڈیا): ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران تہران میں سرخ رنگ کے جھنڈے لہراتے دکھائی دیے، جنہوں نے لوگوں کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ایران میں سرخ جھنڈے کا مطلب خون ناحق کا انتقام ہوتا ہے اور یہ تب تک نہیں اتارا جاتا جب تک اس کا بدلہ نہ لیا جائے۔
تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں لاکھوں سوگواروں نے یہ جھنڈے ہاتھوں میں اٹھائے اور اپنے لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم کیا۔ ان جھنڈوں پر نعرہ ‘یا لثارات الحسین’ لکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ‘اے حسین کا بدلہ لینے والوں’۔
ایک نیا نعرہ ‘یا لثارات الخامنہ ای’ بھی لکھا دیکھا گیا ہے، جو خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ نعرہ امام حسین کی یاد دلاتا ہے، جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی علامت ہیں۔
پرانے زمانے میں بھی یہ نعرہ لگایا جاتا تھا جب جنگجوؤں کو بدلہ لینے کے لیے اکٹھا کرنا ہوتا تھا۔ ایرانی عوام خامنہ ای کے نام کے ساتھ اس نعرے کو ملا کر بدلہ مانگ رہے ہیں۔
جنازے کے اجتماع میں ایران کے قومی جھنڈے کے ساتھ حزب اللہ کے پیلے جھنڈے بھی لہرائے جا رہے تھے، جو دنیا کو اس نقصان پر خاموش نہ رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔


