لاہور (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی جیلوں کو سزا گاہوں کے بجائے اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے بڑے اصلاحاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں، نئی جیلوں کی تعمیر، قیدیوں کی فلاح و بہبود، سیکیورٹی اور صحت و تعلیم پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں ننکانہ صاحب جیل کے ویڈیو جائزے کے بعد، وزیراعلیٰ نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی اور ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ پنجاب کی جیلوں میں اس وقت 68 سے 79 ہزار قیدی موجود ہیں جبکہ گنجائش صرف 39 ہزار ہے۔ اوور کراؤڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے نئی بیرکوں کی تعمیر اور نئی جیلوں کی تعمیر جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے قیدیوں کی منتقلی کے لیے 30 جیل وینز کو جدید بنانے کی ہدایت کی۔ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں خواتین جیلیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ جوینائل جیلوں کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اجلاس میں غریب قیدیوں کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت میسر ہے۔ قیدیوں کی تعلیم کے لیے 4 ہزار 141 قیدی لٹریسی پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہیں جبکہ 30 ہزار سے زائد قیدیوں کو مختلف ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے جیلوں میں قیدیوں کے حقوق، صحت اور تعلیم کی بحالی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر اصلاح کا مقصد قیدیوں کی بہتری اور معاشرے میں ان کی مثبت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔


