اسلام آباد (لارڈ میڈیا): اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جسٹس محمد آصف نے فضل عباس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے معاملات قانون کے مطابق چلائیں جائیں۔
عدالت نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو روکنے کی آڑ میں عام شہریوں کے بنیادی ملکیتی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے اور سی ڈی اے کے خط کی بنیاد پر لگائی گئی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ زبانی احکامات ماورائے قانون ہیں اور انتظامیہ کے عدالتی احکامات کو انتظامی ہدایات کی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے وضاحت کی کہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت جائیداد منجمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آئین کے تحت زمین کے انتقال پر مکمل پابندی شہریوں کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اصل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پورے علاقے کے شہریوں پر پابندی امتیازی سلوک ہے، اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو روکنے کے لیے شہریوں کے حقوق پر کم سے کم اثر انداز ہونے والا راستہ اپنانا چاہیے تھا۔


