لندن (شِنہوا) ایران نے کہا ہے کہ تنازع اور اس سے متعلق سمندری پابندیوں کے باعث پیش آنے والے واقعات میں 54 جہاز ران ہلاک، 66 زخمی جبکہ 7 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی بحری تنظیم کے ایک اجلاس میں پیش کئے گئے۔
بین الاقوامی بحری تنظیم کی تکنیکی تعاون کمیٹی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی نمائندے نے کہا کہ ان واقعات سے مجموعی طور پر 360 بحری جہاز متاثر ہوئے، جن میں 253 یا تو ڈوب گئے یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
ایرانی نمائندے کے مطابق تنازع اور اس سے متعلق سمندری پابندیوں نے بحری جہازوں، جہاز رانوں، بندرگاہی سرگرمیوں، تلاش و بچاؤ کی خدمات، ہنگامی ردعمل کے نظام، جہازوں کی آمدورفت کی خدمات، مواصلاتی سہولیات اور بحری سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 28 جہاز رانوں کو یرغمال بنایا گیا، جن میں سے 5 اب بھی قید میں ہیں۔
نمائندے نے مزید بتایا کہ بحری آپریشنز کی 4 عمارتوں، بحری آمدورفت کے 4 کنٹرول سٹیشنوں اور 8 مواصلاتی ریلے یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے بقول یہ تنصیبات محفوظ جہاز رانی، ہنگامی رابطہ کاری اور بحری ٹریفک کے انتظام کے لئے انتہائی اہم ہیں۔
ایرانی نمائندے نے بتایا کہ 8 جون کو کمیٹی میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں ایران نے کہا کہ "ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی” سے متعلق امریکی اقدام اور اس سے وابستہ پابندیوں نے تجارتی جہاز رانی، بندرگاہوں تک رسائی، بحری سفر کی منصوبہ بندی، جہاز رانی کی سلامتی اور بحری جہازوں اور جہاز رانوں کی نقل و حرکت میں خلل پیدا کیا ہے۔


