ہومتازہ ترینچین اور یونیسف کی مشترکہ کاوشیں، لاؤس میں غذائی کمی کے شکار...

چین اور یونیسف کی مشترکہ کاوشیں، لاؤس میں غذائی کمی کے شکار بچوں کی زندگیاں بدلنے لگیں

خشک موسم کے اختتام کے ساتھ جب پہلی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو صوبہ لوانگ پرابانگ کے ضلع نان کی کچی سڑکوں کے گڑھے اور ناہمواریاں بارشی پانی سے بھر جاتی ہیں۔ دور سبزہ زاروں اور چاول کے وسیع کھیتوں کے اوپر زمردی سبز پہاڑ بلند دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایک چھوٹے سے پل کے بالکل پار کیومانی گاؤں کا کمیونٹی ہال واقع ہے۔

گاؤں کے کمیونٹی ہال کے اندر 22 ماہ کا بچہ خاموئی اپنی والدہ لاتھ کی گود میں خاموش بیٹھا تھا۔ ایک صحت کارکن نے اسے بچوں کا وزن کرنے والے ترازو پر رکھا۔ صحت کارکن نے بتایا کہ بچے کا وزن 8.9 کلوگرام ہے۔یہ سن کر لاتھ کے چہرے پر ہلکی سی اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ جب علاج شروع ہوا تو تب بچے کا وزن صرف 7 کلو گرام تھا اور اسے شدید غذائی کمی کا شکار قرار دیا گیا تھا۔

صحت کی کارکن نے لاتھ کو رہنمائی دی اور اسے غذائیت سے بھرپور علاجی خوراک کے سات تیار پیکٹس بھی دئیے۔ یہ غذائیت سے بھرپور خوراک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے تاکہ شدید غذائی کمی کے شکار بچوں کا علاج گھر پر ممکن ہو جائے۔ اس نے لاتھ کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ ایک ہفتے کے بعد خوراک کی اگلی قسط لینے دوبارہ واپس آئے۔

مقامی صحت عملے نے صرف علاجی خوراک فراہم نہیں کی بلکہ لاتھ کو یہ بھی سکھایا کہ متوازن غذا کس طرح تیار کی جاتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (لاؤ): لاتھ، کیومانی گاؤں کی رہائشی

”جب سے اس کا علاج شروع ہوا ہے یہ زیادہ صحت مند ہو گیا ہے۔ اب اس کی بھوک بھی واپس آ گئی ہے۔“

یہ کوئی اکیلے خاموئی کی کہانی نہیں ہے۔ لاؤس میں بچوں کی غذائی کمی طویل عرصے سے عوامی صحت کے سنگین مسائل میں سے ایک رہی۔ گزشتہ دہائی میں ملک نے اس حوالے سے واضح پیش رفت کی تاہم کووِڈ 19 کی وبا اور اس کے بعد آنے والے معاشی جھٹکوں کی وجہ سے متعدد دیہات اور دور دراز کے علاقوں میں صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کی خدمات متاثر ہوئیں۔

یونیسف لاؤ پی ڈی آر کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے ہر دس میں سے ایک سے زائد بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔

صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے لاؤ حکومت اور یونیسف نے 2022 میں بچوں کی غذائیت کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کے لئے چین کی وزارت تجارت اور چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی نے مالی معاونت فراہم کی۔ پروگرام کا ہدف وہ 10 صوبے تھے جہاں بچوں میں شدید غذائی کمی کی شرح بہت زیادہ تھی۔ اکتوبر 2022 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ دسمبر 2025 میں مکمل ہوا۔ منصوبے کو استعداد کار میں اضافے اور سامان کی فراہمی کے دو اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ویلون ویفونگسے، غذائی پروگرام افسر یونیسف، لاؤ پی ڈی آر

”چین کی معاونت کے باعث ہم نے اب تک 1900 سے زائد فرنٹ لائن کارکنوں کو تربیت دی جبکہ غذائی کمی کے حوالے سے 38 ہزار سے زائد بچوں کی اسکریننگ کر چکے ہیں۔“

منصوبے کے آغاز سے اب تک لاؤس بھر کے تقریباً 400 صحت مراکز میں 7 ہزار 723 کارٹن پہنچائے جا چکے ہیں۔ یہ کارٹن تیار علاجی خوراک، سینکڑوں ڈبے علاجی دودھ اور بڑی مقدار میں ادویات اور اسکریننگ آلات پر مشتمل ہیں۔ یونیسف کے مطابق اب تک شدید غذائی کمی کے شکار 4 ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

کیومانی سے کچھ ہی فاصلے پر تھونگ چالارن کا مرکزِ صحت اردگرد کے پانچ دیہاتوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس مرکز کے سربراہ ستھید وانتھانوم سال 2014 سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی بچوں کی غذائی حالت میں آنے والی تبدیلی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (لاؤ): ستھید وانتھانوم، سربراہ، مرکز صحت تھونگ چالارن

”دو یا تین سال پہلے تک بچوں میں غذائی کمی ایک بہت ہی معمول کی بات تھی۔ تین سال پہلے کے مقابلے میں اب ہمارے علاقے میں بچوں کے اندر غذائی کمی کی شرح میں نمایاں طور پر کم آئی ہے۔ اب چند ایک ہی نئے کیسز ہمارے سامنے آئے ہیں۔ صرف رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں ہم نے 275 بچوں کا معائنہ کیا جن میں سے کسی ایک میں بھی شدید غذائی کمی کی تشخیص نہیں ہوئی۔“

یہ مرکزِ صحت 675 گھرانوں اور 3346 افراد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ماضی میں محدود طبی آلات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کے باعث غذائی کمی کے شکار بچوں کی ایک لمبے عرصے تک نگرانی تقریباً ناممکن تھی۔

اب صحت کارکن باقاعدگی سے بچوں کی اسکریننگ کے لئے شیر خوار بچوں کے وزن کرنے والے ترازو اور بازو کے درمیانی حصے کے گولائی ناپنے والے ٹیپ استعمال کرتے ہیں۔ وہ دور دراز دیہاتوں کا بھی باقاعدگی سے دورہ کرتے ہیں تاکہ غذائیت سے متعلق آگاہی سیشن منعقد کریں اور بچوں کا معائنہ کر سکیں۔

لوانگ پرابانگ کے صوبائی محکمہ صحت کے حفظانِ صحت اور صحت کے فروغ کے شعبے کی نائب سربراہ بوآکیو سیسوفان کی رائے میں یہ پروگرام ایک خاموش لیکن گہری تبدیلی لایا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (لاؤ): بوآکیو سیسوفان، نائب سربراہ، ہائی جین اینڈ ہیلتھ پروموشن سیکشن،صوبائی محکمہ صحت، لوانگ پرابانگ

”چین کی جانب سے یونیسف کے ذریعے فراہم کی جانے والی معاونت نے نچلی سطح کے صحت مراکز کی صلاحیت کو مستحکم کیا ہے تاکہ وہ غذائیت سے متعلق مشاورت اور ابتدائی اسکریننگ فراہم کر سکیں۔ اب مقامی صحت کارکن کیسز کی جلد نشاندہی کر کے صورتحال سےبروقت نمٹ سکتے ہیں۔“

تھونگ چالارن گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیچر سوفافون یانگفچان اس حقیقت کو ذاتی طور پر جانتی تھیں۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کو 15 ماہ کی عمر میں شدید غذائی کمی کی تشخیص ہوئی۔ نمونیا کی بیمای نے اس کی بھوک ختم کر دی تھی۔

صحت مرکز نے سوفافون کو استعمال کے لئے تیارعلاجی خوراک فراہم کی اور اسے اپنی بچی کو مناسب طریقے سے خوراک دینے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ صرف تین ماہ کے اندر بچی کا وزن 6 کلوگرام سے بڑھ کر 7 کلوگرام ہو گیا۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (لاؤ): سوفافون یانگفچان، ٹیچر، تھونگ چالارن

”میں یونیسف اور چین کی حکومت کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے گاؤں کے بچوں کی مدد کی۔ اب جبکہ میری بچی صحت مند ہے تو میں بے فکری سے کام پر جا سکتی ہوں۔“

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): ویلون ویفونگسے، غذائی پروگرام افسر یونیسف، لاؤ پی ڈی آر

”اب دور دراز گاؤں کی ایک ماں کو مدد حاصل کرنے کے لئے کئی دن کا سفر نہیں کرنا پڑتا۔ اس کی اپنی کمیونٹی میں ایک تربیت یافتہ ماہر موجود ہے جسے وہ مدد کا کہہ سکتی ہے اور اپنے بچوں کو دوبارہ صحت مند بنا سکتی ہے۔“

منصوبے سے آنے والی تبدیلیاں صرف علاج تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات بیماری سے بچاؤ کی سطح پر بھی محسوس کئے گئے۔ تھونگ چالارن سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں باٹھ میلاتیا دورانِ حمل ہر ماہ مرکز صحت آتی رہی۔ صحت کے عملے نے باقاعدگی سے اس کا معائنہ کیا اور اسے روایاتی طور پر کچھ غذاؤں سے پرہیز کرنے کے بجائے متوازن غذا کھانے کی ترغیب دی۔ پھر اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جو ساڑھے 3 کلوگرام وزن کے ساتھ مکمل صحت مند تھا۔

ساؤنڈ بائٹ 7 (لاؤ): باٹھ میلاتیا، دو بچوں کی ماں، تھونگ چالارن

”اس سال کے آغاز میں اس منصوبے کے تحت دی جانے والی تربیت سے ہم نے یہ بات سیکھی کہ بچوں کو صحت مند رکھنے کے لئے انہیں کس قسم کی غذا دینی چاہئے۔ میں نے بہت سی ایسی باتیں سیکھیں جو اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھیں۔“

چین کی لاؤس میں سفیر فانگ ہونگ نے کہا کہ چین کے مالی تعاون سے چلنے والے بچوں کے غذائیت کے پروگرام میں پانچ سال سے کم عمر بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ پروگرام بچاؤ، اسکریننگ اور معیاری علاج کے ذریعے شدید غذائی کمی کے شکار ہزاروں بچوں کی جانیں بچانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ سہ فریقی تعاون کے تحت مکمل کیا گیا۔ اس میں چین نے مالی معاونت فراہم کی، یونیسف نے تکنیکی مدد دی جبکہ لاؤ حکومت کی قیادت میں اس پر عملدرآمد ہوا تاکہ یہ پروگرام مقامی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کر سکے۔

پرابانگ، لاؤس سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں