ہومتازہ ترینپلاسٹک کی بوتلوں میں پانی صحت کے لیے خطرہ؟

پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی صحت کے لیے خطرہ؟

لاہور (لارڈ میڈیا): پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی، جو پیاس بجھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ عالمی اداروں کی تحقیقات کے مطابق، بوتل بند پانی ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا کہ اشتہارات میں دکھایا جاتا ہے۔ ایف ڈی اے نے کہا ہے کہ بہت سی کمپنیاں نلکے کا پانی بوتلوں میں بند کرتی ہیں، جو جدید ترین فلٹرنگ کے بعد جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔ تاہم، جب یہ پانی پلاسٹک کی بوتل میں بند ہوتا ہے اور گرمی میں رکھا جاتا ہے، تو پلاسٹک کے باریک ذرات پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق، یہ ‘مائیکرو پلاسٹک’ ذرات پانی میں شامل ہوکر انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں، جو صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے، وہاں پلاسٹک کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی مکمل تحقیق جاری ہے، لیکن یہ ذرات جسمانی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ ایک صحت، معاشی اور ماحولیاتی مسئلہ ہے، کیونکہ بوتل بند پانی مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ شیشے یا سٹین لیس سٹیل کی اپنی بوتلیں استعمال کریں اور گھر میں صاف کیا ہوا پانی استعمال کریں۔ یہ نہ صرف جیب پر بوجھ کم کرے گا بلکہ مائیکرو پلاسٹک کے خطرے سے بھی محفوظ رکھے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں