چین کے وسطی صوبے ہوبے کے شینونگجیا فاریسٹری ڈسٹرکٹ میں پہاڑی سیاحت کے عالمی دن 2026 کے حوالے سے منعقدہ تقریب اتوار کے روز ختم ہو گئی۔
اس تین روزہ ایونٹ میں دنیا بھر سے سیاحت کے ماہرین اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے پہاڑی سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
سطح سمندر سے تقریباً 1700 میٹر کی اوسط بلندی پر واقع شینونگجیا اپنی گہری وادیوں، دھند سے ڈھکی چوٹیوں اور بھرپور حیاتیاتی تنوع کے حوالے سےجانا جاتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): خلیل ہاشمی، پاکستانی سفیر برائے چین
“یہاں بہترین ٹرانسپورٹ سہولیات، ہوٹل اور شاہراہیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مضبوط انفراسٹرکچر بھی موجود ہے جو جنگلاتی حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ اور بقا کو یقینی بناتا ہے۔ یہاں ماحولیاتی سیاحت اور مجموعی پائیدار ترقی کے ماڈل کے لئے بھی گنجائش موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ فطرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جینیفر کیم منرو، ڈائریکٹر نیچر اینڈ ایکو سسٹم ریسٹوریشن، سوڈا ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ،سعودی عرب
”مجھے پہاڑ کی چوٹی بہت پسند آئی جسے چین کے وسطی علاقے کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے بادلوں کا دلکش منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ واقعی جنت جیسا بہت ہی سحر انگیز مقام تھا جہاں ہر چیز ناقابلِ یقین حد تک خوبصورت تھی۔ پھر ہم نیچے آ گئے۔ اب ہم اس شاندار جھیل کو دیکھ رہے ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): روشن کھنل، قائم مقام سفیر، نیپال سفارتخانہ، چین
”آج ہم نے ارادے کے اظہار کی ایک دستاویز پر دستخط کئے جس کا مقصد شینونگجیا اور اناپورنا کے درمیان تعاون اور جڑواں پہاڑوں کےتعلق کے قیام کا معاہدہ کرنا ہے۔ یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے اور ہم واقعی اس کا جشن منا رہے ہیں۔
ان دونوں پہاڑوں کے درمیان جڑواں پہاڑوں کا رشتہ قائم کرنے سے یقینی طور پر ثقافتی تبادلے، بہترین تجربات کے اشتراک اور خیالات کے تبادلے کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں ماحول دوست سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکے گا۔ اسی طرح ہم ایک دوسرے سے یہ بھی سیکھ سکیں گے کہ پہاڑوں کو کس طرح پائیدار استعمال کے لئے بہتر طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔“
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): خلیل ہاشمی، پاکستانی سفیر برائے چین
”یہاں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے اور یہ وہ شعبے ہیں جہاں میرے خیال میں مختلف سطحوں پر ہمارا تعاون جاری ہے۔ ابتدا میں مثال کے طور پر شینونگجیا اور پاکستان کے کسی ایک پہاڑ کے درمیان مماثلت کا تصور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ سیاحت کے شعبے میں چین کے پاس آگے بڑھنے کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔“
ووہان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


