بیروت (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل بیروت پر حملہ کرتا ہے تو ایران جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نے تمام متعلقہ فریقوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ لبنانی دارالحکومت پر حملہ برداشت نہیں کرے گا اور ایسا اقدام جنگ کے دوبارہ آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔
لبنانی نشریاتی ادارے المیادین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج جوابی کارروائی کے لئے تیار ہیں اور اگر بیروت کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے بھی تیار رہیں گی۔
عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران اور لبنان دونوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران موجودہ تنازع میں لبنان اور ایران کے مستقبل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتا اور کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی تصفیے میں دونوں ممالک کو شامل ہونا چاہیے۔
عراقچی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ذریعے رابطے جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق دونوں فریق مسودوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایک حتمی متن کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔
عراقچی نے ایک بار پھر کہا کہ ایران "عزت اور وقار پر مبنی امن و سلامتی” کا خواہاں ہے اور جنگ نہیں چاہتا۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران نے مذاکرات کی درخواستوں کا مثبت جواب دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی وقت فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لئے تیار ہیں اور طویل جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں امن کے لئے شرائط پر مشتمل کئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔


