لان ژو (شِنہوا) چینی امور کے ماہرین کی تیسری عالمی کانفرنس چین کے شمال مغربی صوبہ گانسو کے تاریخی شہر دون ہوانگ میں شروع ہوگئی، دون ہوانگ شہر قدیم شاہراہ ریشم کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین اور ثقافتی شخصیات اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران چینی تہذیب مشترکہ عالمی مسائل سے نمٹنے میں کس طرح کردار ادا کر سکتی ہے۔
"تہذیبوں کی دانش کو یکجا کرکے عصر حاضر کے مسائل کا مشترکہ مقابلہ” کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس میں تقریباً 70 ممالک سے 300 سے زائد مندوبین شریک ہیں۔
ایتھوپیا کے سابق صدر اور چینی امور کے ماہر مولاتو تیشوم ورتو نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی تہذیب کی ابتدا اگرچہ چین میں ہوئی لیکن اب یہ پوری دنیا کی مشترکہ فکری میراث اور انسانیت کا قیمتی علمی سرمایہ بن چکی ہے۔
اٹلی کی کافوسکاری یونیورسٹی آف وینس کی ریکٹر تیزیانا لیپیلو نے کہا کہ یہ کانفرنس باہمی اعتماد، انسانی وقار، ہمدردی اور پائیدار امن پر مبنی دنیا کے قیام کے لئے نئے اور مضبوط پل تعمیر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دون ہوانگ ایک ایسا مقام ہے جہاں تاریخ، ثقافت اور تخیل صدیوں کے فاصلے طے کرکے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اس لئے موجودہ دور کے مکالمے کے لئے یہ شہر ایک نہایت موزوں اور بامعنی مقام ہے۔
کانفرنس کے دوران چار ذیلی فورمز بھی منعقد کئے جائیں گے جن میں چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت، چینی تہذیب میں موجود امن پسند اقدار، چینی تہذیب اور بین الثقافتی تبادلوں کی تاریخی ارتقا اور روایتی چینی فلسفیانہ افکار کی عصر حاضر میں اہمیت جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
میزبان شہر کے طور پر دون ہوانگ کا انتخاب بھی خصوصی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ دو ہزار سال قبل یہ شہر قدیم شاہراہ ریشم کا ایک اہم سنگم تھا، جہاں سے چینی ریشم اور چائے مغرب تک پہنچتی تھی جبکہ انگور، گاجر اور انار جیسی اجناس چین میں متعارف ہوئیں۔
آج بھی دون ہوانگ ایک اہم ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تین مقامات اور 260 سے زائد رجسٹرڈ ثقافتی آثار موجود ہیں۔


