نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت ایک بڑے امتحانی اسکینڈل کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ سی بی ایس ای کے نتائج میں دھاندلی اور سرکاری نوکری کے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا ہے۔
نتائج تیرہ مئی کو جاری کیے گئے جس کے بعد مسائل نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا۔ امتحانات کی جانچ کے لیے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل سسٹم میں تکنیکی خرابیوں کی شکایات سامنے آئیں، جس سے اسکینڈل کی بنیاد رکھی گئی۔
نوجوان طالب علم ویدانت شریواستو نے سوشل میڈیا پر ثبوت پیش کیے، جس سے ظاہر ہوا کہ اسکین شدہ کاپی اس کی نہیں تھی۔ بورڈ نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے ویدانت کا رزلٹ درست کیا۔ مزید طلبہ نے ویب سائٹ میں سیکیورٹی نقائص کا انکشاف کیا۔
سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی کے بانی پرانیش پرکاش نے سسٹم کی خامیوں پر بات کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے طلبہ کے اداروں پر اعتماد کے فقدان کی نشاندہی کی۔
حکومت نے تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور سیکریٹری کا تبادلہ کر دیا، جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے وزیر تعلیم کے استعفے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے تبادلوں پر ناراضگی ظاہر کی۔


