شہر (لارڈ میڈیا): دمہ کے مریضوں میں ان ہیلر کے استعمال کے حوالے سے غلط فہمیاں اور خوف ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جس کے باعث کئی مریض بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیلر کو غلط سمجھنے کی وجہ سے مریضوں کو نقصان ہوتا ہے جبکہ یہ صحیح علاج کے ذریعے پھیپھڑوں کی سوجن کو کم کرتا ہے۔
دمہ کا حملہ اکثر خاموشی سے شروع ہوتا ہے، جیسے سینے میں جکڑن یا سانس پھولنا، مگر جب ڈاکٹرز ان ہیلر کا مشورہ دیتے ہیں تو مریض مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ بعض مریض طبیعت بہتر ہوتے ہی ان ہیلر چھوڑ دیتے ہیں یا اسے شروع نہیں کرتے، جس سے ان کی حالت بدتر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ان ہیلر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ دوا کو براہ راست پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے جس سے جلدی آرام ملتا ہے اور جسم پر برے اثرات نہیں ہوتے۔ اسٹیرائڈز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے، جس سے جسم پر منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
بے قابو دمہ خود علاج سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ ماہرین متفق ہیں کہ ان ہیلر کے فائدے زیادہ ہیں۔ مریضوں کو صحیح طریقہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے دمہ قابو میں نہیں آتا۔ اس لیے ڈاکٹر مریضوں کو ان ہیلر کا درست استعمال سکھاتے ہیں۔
کچھ مریض ان ہیلر استعمال کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیلر کوئی کمزوری نہیں۔ دمہ کا علاج خوف کی بجائے ڈاکٹر پر بھروسہ اور سچائی پر مبنی ہونا چاہیے۔


