تہران (شِنہوا) ایران کی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا متن حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی میڈیا کے پہلے سے کئے گئے دعوؤں کو مسترد کیا گیا۔
ذرائع نے تسنیم کو بتایا کہ وہ رپورٹس جن میں کہا گیا تھا کہ معاہدے کا متن صرف دونوں فریقوں کے باضابطہ اعلان کا منتظر ہے، "حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں”۔ ذرائع نے مزید کہا کہ دستاویز "ابھی تک حتمی نہیں ہوئی”۔
اس سے قبل امریکی میڈیا ایکسیوس نے امریکی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم امریکی صدر نے ابھی تک اس کی حتمی منظوری نہیں دی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی "بلا رکاوٹ” جاری رہے گی۔ ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نہ کوئی ٹول ٹیکس ہوگا اور نہ ہی ہراسانی جبکہ ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔
اطلاعات کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس میں یہ بھی درج ہوگا کہ 60 روزہ مدت کے دوران مذاکرات کے ابتدائی نکات ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کی تلفی اور ایرانی یورینیم افزودگی کے مسئلے سے متعلق ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس مذاکرات کے حصے کے طور پر پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بات چیت کے لئے بھی آمادگی ظاہر کرے گا۔ اس کے علاوہ ایران کو اشیائے ضروریہ اور انسانی امدادی سامان تک رسائی فراہم کرنے کے لئے ایک طریقہ کار قائم کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
ایرانی ذرائع نے ایکسیوس کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ اگر کسی معاہدے کے متن کو بالآخر حتمی شکل دی گئی تو ایران پاکستانی ثالثوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا اور اس معاملے کو عوامی سطح پر لایا جائے گا۔
اس وقت تک مغربی میڈیا کی وہ تمام رپورٹس جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ معاہدہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، "قابل اعتبار نہیں ہیں”۔


