بیجنگ(شِنہوا) چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی پاور بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کو منظم کرنے کے لئے قانونی اقدامات پر زور دیا۔ یہ بیٹریاں اب بڑے پیمانے پر اپنی مدت استعمال مکمل کرنے کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔
این ای وی بیٹری ری سائیکلنگ سے متعلق ایک اجلاس میں وزارت نے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت تحقیقات اور سزاؤں پر زور دیا جن میں استعمال شدہ بیٹریوں کو بغیر اجازت تلف کرنا، پرانی بیٹریوں سے غیر معیاری مصنوعات تیار کرنا، معلوماتی ٹریکنگ کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا، غیر قانونی طریقے سے بیٹریاں کھولنا جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہو اور بغیر لائسنس کاروباری سرگرمیاں شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق اندازہ ہے کہ 2030 تک استعمال شدہ پاور بیٹریوں کا سالانہ حجم 10 لاکھ ٹن سے تجاوز کر جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک موثر اور جامع بیٹری ری سائیکلنگ نظام کے قیام کو تیز کرنا فوری ضرورت بن چکا ہے۔
وزارت نے کہا کہ بیٹریوں کی نقل و حرکت کی بہتر نگرانی اور صنعتی سلسلے سے وابستہ اداروں کی ذمہ داریوں کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کی جائیں گی۔
وزارت نے صنعتی تنظیموں، بڑی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان گہرے تعاون پر بھی زور دیا تاکہ جدید ٹیکنالوجیز اور آلات کی تیاری و استعمال کو تیز کیا جا سکے، نئے کاروباری ماڈلز تلاش کئے جائیں اور صنعت کی معیاری ترقی کے لئے مضبوط بنیاد قائم کی جا سکے۔


