ماسکو (شِنہوا) روس کے زابیکالسکی خطے کے گورنر الیگزینڈر اسیپوف نے کہا ہے کہ روس اور چین کے درمیان سرحدی تعاون انتہائی فعال ہے اور توقع ہے کہ دونوں فریقین اس شعبے میں تعاون کی مزید صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔
روس کے مشرق بعید میں واقع اور چین و منگولیا سے متصل زابیکالسکی خطہ تاریخی تجارتی شاہراہ "ٹی روڈ” کے ساتھ واقع ہے، جو بنیادی طور پر چین سے یورپ تک چائے کی ترسیل کے لئے استعمال ہوتی تھی اور یہ چین-منگولیا-روس اقتصادی راہداری کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں اسیپوف نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات کی پروسیسنگ اس خطے کی ترجیحی صنعتوں میں سے ایک ہے اور چین کے ساتھ تعاون کا ایک بڑا شعبہ ہے۔ اس وقت درجنوں مشترکہ منصوبے جاری ہیں جو مختلف معدنی وسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعاون اب محض معدنیات نکالنے اور ابتدائی پروسیسنگ سے نکل کر گہری اور جدید پروسیسنگ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
اس تبدیلی کی حمایت کے لئےعلاقائی حکومت نے جدید پروسیسنگ میں مصروف کمپنیوں کے لئے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے کی معاونت، ٹیکسوں میں چھوٹ اور کسٹمز کی ترجیحات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقل و حمل اور لاجسٹکس بھی ترقی کے اہم شعبے ہیں اور انہوں نے سائبیریا اور مشرق بعید میں روس اور چین کے درمیان تعاون کی وسیع صلاحیتوں کو اجاگر کیا جس میں سرحدی گزرگاہیں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
اسیپوف نے کہا کہ زابیکالسک بارڈر چیک پوائنٹ کی تزئین و آرائش اور توسیع کا کام پہلے ہی جاری ہے اور امید ہے کہ اس کی مرکزی تعمیر رواں سال مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اپ گریڈیشن سے مسافروں اور تجارتی سامان دونوں کو سنبھالنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
سیاحت دوطرفہ تعاون کا ایک اور اہم ستون ہے۔ اسیپوف نے کہا کہ یہ خطہ منفرد قدرتی مناظر، تاریخی ورثے اور "ریڈ ٹورازم” کمیونسٹ تاریخ سے جڑے مقامات کی سیاحت کے وسائل سے مالا مال ہے۔ چینی سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے یہاں نئے جاذب نظر مقامات، قدرتی راستے اور مخصوص تھیم پر مبنی سفری راستے تیار کئے جا رہے ہیں۔


