لان ژو (شِنہوا) پاکستان سے تعلق رکھنے والی نباتات میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ماریہ نقوی نے چین کے شمال مغربی شہر ژانگ یے میں تدریس شروع کرنے کے بعد ایک ایسے سفر کا آغاز کیا ہے جو نہ صرف سرحد پار تدریسی تجربہ ہے بلکہ زرعی ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلے اور تعاون کے مواقع کی تلاش کا ذریعہ بھی ہے۔
نقوی اس وقت ژانگ یے کے بائی لی ووکیشنل کالج میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں 80 سال سے زائد تاریخ رکھنے والا یہ کالج پاکستان اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ طویل عرصے سے تعاون کرتا آ رہا ہے۔ 2021 سے اس نے پاکستان کی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے ساتھ مل کر زرعی ماہرین کی تربیت کے لئے شراکت داری قائم کر رکھی ہے جس کے تحت 10 طلبہ پر مشتمل پہلا بیچ گزشتہ سال جون میں فارغ التحصیل ہوا تھا۔
چین آنے سے پہلے نقوی نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں کئی سال تک تعلیم حاصل کی اور وہاں کام بھی کیا۔ اتفاقاً انہوں نے آن لائن بائی لی ووکیشنل کالج میں غیر ملکی اساتذہ کی بھرتی کا اشتہار دیکھا، درخواست دی اور منتخب ہو گئیں۔ وہ ستمبر 2025 میں ایک سالہ تعلیمی اسائنمنٹ کے تحت زبانی انگریزی پڑھانے کے لئے چین پہنچیں۔
چینی طلبہ کے ساتھ تدریس کے دوران نقوی ان کے سوچنے کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں اور اسی کے مطابق اپنی تدریس کو ڈھالتی ہیں۔ وہ کلاس میں بولنے کی مشق، سننے کی سرگرمیاں، اجتماعی کام اور مکالمے کی سرگرمیاں شامل کرتی ہیں تاکہ طلبہ کی دلچسپی بڑھائی جا سکے۔
نقوی نے کہا کہ چینی طلبہ بہت با ادب ہیں، وہ انگریزی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور میں انہیں بولنے اور سننے کی سرگرمیوں میں مدد دیتی ہوں۔
چین آنے کے بعد نقوی نے تہواروں، کیمپس سرگرمیوں اور روزمرہ مشاہدات کے ذریعے چینی ثقافت کو قریب سے سمجھنا شروع کیا ہے۔ وہ اکثر سکول کی تقریبات میں شریک ہوتی ہیں اور فارغ وقت میں شہر کی سیر اور مقامی زندگی کا مشاہدہ کرتی ہیں۔
حال ہی میں منائے گئے "چھنگ منگ تہوار” کے دوران انہیں چینی روایتی رسم و رواج کو براہ راست سمجھنے کا موقع ملا۔ ان تجربات نے انہیں اپنی تدریس میں مزید ثقافتی عناصر شامل کرنے کی طرف راغب کیا ۔
نقوی نے اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیشہ ورانہ شعبے پر بھی گہری توجہ دی ہے۔ کالج کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے گرین ہاؤس سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ممکنہ تحقیقی تعاون پر بات چیت کا آغاز بھی کیا ہے۔
نقوی نے کہا کہ لیبارٹری کا کام تقریباً ایک جیسا ہے لیکن یہاں زرعی شعبوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز بہت زیادہ جدید ہیں اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ان ٹیکنالوجیز کو سیکھوں گی اور ان میں سے کچھ اپنے ملک میں متعارف کراؤں گی تاکہ میرا ملک ان سے فائدہ اٹھا سکے۔
یہ جذبہ ان کے ابتدائی تعلیمی انتخاب سے جڑا ہوا ہے۔
نقوی نے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی خوراک انسان کی بنیادی ضرورت اور بیج زرعی نظام کی بنیاد ہیں۔ پاکستان میں ہمیں زیادہ سے زیادہ خوراک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی حدت اور دیگر مسائل کی وجہ سے زرعی زمین کم ہو رہی ہے، اس لئے ہمیں زیادہ جدید طریقوں کی طرف جانا ہوگا۔
ژانگ یے میں اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ نقوی نے موسم سرما کی تعطیلات میں چین کے شمال مغربی صوبے سیچھوان کے دارالحکومت چھنگ دو کا بھی سفر کیا جہاں انہوں نے سیچھوان زرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا تاکہ چین کی زرعی ترقی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
نقوی نے کہا کہ ژانگ یے کے مقابلے میں جہاں زرعی زمین نسبتاً زیادہ ہے، چھنگ دو زیادہ صنعتی اور تیز رفتار شہر نظر آتا ہے اور ایسے علاقائی فرق چین بھر میں زرعی ترقی کے تنوع کو نمایاں کرتے ہیں۔
نقوی کے خیال میں بائی لی ووکیشنل کالج اور پاکستانی جامعات کے درمیان جاری مشترکہ تربیتی پروگرام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
نقوی نے کہا کہ اگر طلبہ یہاں جدید زرعی ٹیکنالوجیز سیکھ کر انہیں اپنے ملک میں ان کا اطلاق کریں تو یہ ایک بڑی مدد ثابت ہوگی اور اہم اختراع لائے گی، مزید یہ کہ وہ جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے پیداوار بڑھا کر بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور زراعت کے شعبے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اب ژانگ یے کی آب و ہوا، خوراک اور روزمرہ زندگی کے ساتھ آہستہ آہستہ ہم آہنگ ہوتے ہوئے نقوی اب بھی اپنے تدریسی شیڈول کی وجہ سے زیادہ تر وقت کیمپس میں گزارتی ہیں۔ اپنے ایک سالہ تدریسی معاہدے کی تکمیل کے بعد وہ امید رکھتی ہیں کہ اگر موقع ملا تو وہ چین میں قیام کے لئے درخواست دیں گی۔
وہ ایک طرف بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں کا دورہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ ملک کو بہتر سمجھ سکیں اور دوسری طرف چین اور پاکستان کے درمیان خصوصاً زراعت کے شعبے میں مزید تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔
نقوی نے کہاکہ ان جدید تجربات کو سیکھ کر میں اپنے ملک کی بہتر خدمت کر سکتی ہوں۔


